بین الاقوامی

شمالی کوریا کا ایک اور میزائل کا کامیاب تجربہ، جنوبی کوریا کا اظہار افسوس

جہاں شمالی کوریا کے اقوام متحدہ کے سفیر نے امریکا کی دشمنانہ پالیسی کے خلاف بیان دیا تقریباً اسی لمحے ملک نے سمندر میں ایک مختصر فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل فائر کیا۔

 رواں ماہ اسلحے کی نمائش کا یہ تیسرا دور ہے جو شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشروط مذاکرات کی پیشکش دہرائے جانے کے صرف تین روز بعد سامنے آیا۔

چند ماہرین کا کہنا تھا کہ میزائل کا تازہ ترین تجربہ ممکنہ طور پر یہ جانچنے کے لیے تھا کہ جنوبی کوریا کس طرح جواب دے گا کیونکہ شمالی کوریا کو سیئول کی ضرورت ہے تاکہ واشنگٹن کو اقتصادی پابندیوں کو کم کرنے اور دیگر مراعات دینے پر آمادہ کیا جا سکے۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے قومی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شمالی کوریا کی جانب سے مختصر فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل فائر کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

قبل ازیں جنوبی کوریا کی فوج نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے پہاڑی خطے جگانگ صوبے سے فائر کی گئی کوئی چیز مشرقی ساحل میں پانی کی طرف گئی ہے۔

میزائل فائر کیے جانے کی مزید تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یو ایس انڈو پیسیفک کمانڈ نے کہا کہ اس لانچ نے فوری طور پر کوئی خطرہ پیدا نہیں کیا بلکہ اس نے شمالی کوریا کے غیر قانونی ہتھیاروں کے پروگرام کے غیر مستحکم اثرات کو اجاگر کیا۔

جاپانی وزیر اعظم یوشی ہائیڈے سوگا نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیا گیا بیلسٹک میزائل ہو سکتا ہے اور ان کی حکومت نے اپنی نگرانی بڑھا دی ہے۔

بیلسٹک میزائل لانچ کرنا شمالی کوریا کی بیلسٹک سرگرمیوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی کی خلاف ورزی ہے تاہم کونسل عام طور پر شمالی کوریا پر مختصر فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کو فائر کرنے کے لیے نئی پابندیاں عائد نہیں کرتا۔

یہ لانچ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی بااثر بہن کم یو جونگ کے سیئول پہنچنے کے بعد کیا گیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک مذاکرات اور مصالحتی اقدامات دوبارہ غور کرنے کے لیے تیار ہے، اگر شرائط پوری ہوں۔

انہوں نے پیانگ یانگ کے سابقہ میزائل تجربات کو اشتعال انگیز قرار دینے پر سیئول کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا تھا کہ وہ غیر منصفانہ ڈبل ڈیلنگ اسٹینڈرڈز اور دشمنانہ پالیسیوں کو ترک کرے۔

Related Articles

Back to top button