بین الاقوامی

باکسر مینی پاکیاؤ کا صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان

باکسنگ کی دنیا سے فلپائن کی سیاست میں قدم رکھنے والے مینی پاکیاؤ نے2022 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کردیا جس کے بعد ان کے انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے کے حوالے سے قیاس آرائیاں ختم ہوگئیں۔

مینی پاکیاؤ نے فلپائن کے موجودہ صدر کی حکمراں جماعت کی حریف جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کو قبول کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ‘اب وقت آیا ہے اور ہم قیادت کے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہیں’۔

آٹھ دفعہ ورلڈ چیمپئن رہنے والے اور قومی ہیرو مینی پاکیاؤ نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان لاس ویگاس میں کیوبا کے یورڈینس اوگا سے اپنے آخری پیشہ ورانہ مقابلے میں شکست کے کئی ہفتوں بعد کیا۔

مینی پاکیاؤ نے 2010 میں بطور کانگریس رکن سیاست میں قدم رکھا تھا، بعد ازاں وہ سینیٹ کے رکن بنے اور ان کی جانب سے طویل عرصے سے ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کے لیے سامنے آنے کا امکان کیا جارہا تھا۔

42 سالہ مینی پاکیاؤ کو ان کی سخاوت اور سخت محنت کے بعد خود کو غربت سے نکالنے اور دنیا کا بہترین و مالدار باکسر بننے پر فلپائن میں بےانتہا پسند کیا جاتا ہے۔

ان کی انتخابی مہم کا محور غربت و کرپشن کے خلاف لڑائی کے ساتھ ان کی باکسنگ میں کامیابیاں رہنے کا امکان ہے۔

قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مینی پاکیاؤ نے کہا کہ ‘جو میری قابلیت کے حوالے سے پوچھ رہے ہیں، کیا انہوں نے کبھی بھوک برداشت کی ہے؟ کیا آپ نے کبھی آپ نے کبھی ایسا وقت گزارا ہے جب کھانے کے لیے کچھ نہ ہو، اپنے پڑوسی سے ادھار لیں یا فوڈ اسٹال پر بچا کچا کھانا کھائیں؟ آپ کے سامنا کھڑے مینی پاکیاؤ نے غربت کا مقابلہ کیا ہے’۔

مینی پاکیاؤ ملک میں اپنی شہرت اور عزت کی وجہ سے صدارتی انتخاب میں مضبوط امیدوار ہوں گے، لیکن ان کی فتح کی ضمانت نہیں ہے۔

عوامی سطح پر مینی پاکیاؤ اور صدر روڈریگو ڈوارٹے کے درمیان بیجنگ کے ساتھ جنوبی چائنا سمندر کے تنازع کے معاملے اور سرکاری سطح پر رشوت کے باعث باکسر کی شہرت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

روڈریگو ڈوارٹے نے، جو آئینی پر ایک مدت کے لیے ملک کے صدر رہ سکتے ہیں، مینی پاکیاؤ کی مخالفت میں گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ بطور نائب صدر انتخاب میں حصہ لیں گے۔

روڈریگو ڈوارٹے سے پارٹی کے وفادار دھڑے نے صدر کے قریبی ساتھی سینیٹر کرسٹوفر لارنس کو صدر کا امیدوار نامزد کرنے کی توثیق کی تھی، تاہم انہوں نے اب تک یہ پیشکش قبول نہیں کی ہے۔

اگر روڈریگو ڈوارٹے کی بیٹی سارا انتخاب میں حصہ لیتی ہیں، جس کا انہوں نے اشارہ بھی دیا ہے، تو مینی پاکیاؤ کو سخت حریف کا سامنا ہوگا۔

حالیہ سروے کے مطابق ڈاواؤ شہر کے میئر، جو روڈریگو ڈوارٹے کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے، کو سب سے زیادہ ووٹر کی حمایت حاصل ہے اور مینی پاکیاؤ اور دیگر ممکنہ امیدواروں سے کافی آگے ہیں۔

آئندہ انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 اکتوبر ہے۔

Related Articles

Back to top button