بین الاقوامی

افغان طالبان قیادت کےدرمیان اختلافات میں کوئی صداقت نہیں، ملاعبدالغنی برادر

افغانستان کے حکومتی امور سنبھالنے کے چند روز بعد ہی طالبان کے دو گروہوں کے آپس میں اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں، تاہم نائب وزیراعظم افغانستان ملاعبدالغنی برادر نے ان تمام خبروں کی تردید کی ہے۔

ملاعبدالغنی برادر کا کہنا تھا کہ صدارتی محل میں تصادم سےمتعلق باتیں بے بنیاد ہیں، افغان طالبان قیادت کےدرمیان کسی قسم کااختلاف نہیں اور ملاغنی برادراورحقانی نیٹ ورک کے ارکان میں کوئی اختلافات نہیں۔

دوسری جانب انس حقانی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان قیادت میں اختلافات کی خبریں دشمن کا پروپیگنڈا ہے۔

رہنما حقانی نیٹ ورک کے مطابق افغان طالبان کے خلاف پروپیگنڈا ہمیشہ جاری رہتا ہے، مستقبل میں بھی افغان عوام اس طرح خبروں پرکان نہ دھریں، ہم کرسی اور عہدے نہیں عقیدے کے لیے لڑرہے ہیں۔

انس حقانی نے مزید کہا کہ ہم چاہتےتو کسی بھی حکومت میں کرسی مل سکتی تھی، لیکن ہم عقیدے سے جڑے ہیں جو کسی بھی لالچ سے پاک ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی پشتو سروس نے دعوی کیا تھا کہ چند روز قبل صدارتی محل میں نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر اور خلیل حقانی کے درمیان زبانی جھگڑا ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کے ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں رہنماوں کے درمیان جھگڑے پر ان کے حامی بھی آپس میں لڑ پڑے تھے۔ جبکہ اس واقعے کے بعد ملا عبدالغنی برادرناراض ہو کر قندھار چلے گئے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ملا عبدالغنی برادر نے نئی حکومت کی تشکیل اور طالبان کی نگران کابینہ پر اختلاف کیا۔ وہ ایسی حکومت نہیں چاہتے تھے جس کے عہدیدار تمام طالبان رہنما یا ملا ہوں۔

Related Articles

Back to top button