بین الاقوامی

غیرملکی افواج کو 31 اگست تک افغانستان سے مکمل انخلا کرنا ہوگا: ذبیح اللہ مجاہد

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نے سی آئی اے ڈائریکٹر اور ملا عبدالغنی برادرکی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرملکی افواج کو 31 اگست تک مکمل انخلا کرنا ہوگا، ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد نئی حکمتِ عملی کا اعلان کریں گے۔

کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’ایک بارپھرآپ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے، گزشتہ 20سال سےافغانستان جنگ وجدل اورخانہ جنگی کاشکار رہا، طالبان کے آنے کے بعد پورے ملک میں کوئی پُرتشدد واقعہ رونما نہیں ہوا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پورےافغانستان میں کوئی خون خرابہ نہیں ہوا،10دونوں سے افغانستان میں مکمل امن ہے، کسی ماں، بہن، بیوہ کسی خاتون کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا‘۔

فریقین کو مذاکرات کی پیش کش

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’حکومت کی تشکیل اور انتقال اقتدار پر مشاورتی عمل کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے،ہمارے دروازے سب کیلئےکھلے ہوئے ہیں آئیں مل کرکام کریں کیونکہ ہم مخلوط حکومت کے قیام کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، نئی حکومت مغربی طرز کی نہیں ہوگی، ہم چاہتے ہیں جلد سے جلد حکومت کی تشکیل ہوجائے‘۔

سفارت خانے بند نہ کرنے کی اپیل

افغان طالبان کے ترجمان نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے سفارت خانے بند نہ کریں کیونکہ اُن کی حفاظت پر طالبان مامور ہیں، تمام سفارت خانوں کی حفاظت طالبان کی ذمہ داری ہے‘۔

 انہوں نے بتایا کہ ’بہت سےسفارتخانےہمارے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، تمام ممالک سے اپیل ہے کہ وہ بھی پُر امن رہیں اور اپنے سفارت خانوں کو معمول کے مطابق کھولے رکھیں، جن ممالک کے سفارت خانےکھلےہیں ان کاشکریہ ادا کرتے ہیں‘۔

امریکا شہریوں کو لالچ دے کر افغانستان سے نکال رہا ہے

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’کابل ایئرپورٹ پرلوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے، امریکا اپنی پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے افغان شہریوں کو لالچ دے کر نکال رہا ہے، امریکی حکام شہریوں کو ایئرپورٹ پر بلاتے اور جب ہجوم بڑھتا ہے تو فائرنگ کردیتے ہیں، کابل ایئرپورٹ پر جمع ہونے والے شہری تسلی رکھتے ہوئے واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں، شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ پریشان نہ ہوں کیونکہ وہ ہمارے اور ہم اُن کے بھائی ہیں‘۔

کابل ایئرپورٹ جانے والے راستے بند کرنے کا اعلان

افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’کابل ایئرپورٹ جانے والے راستے احتیاطاً بندکر دیئے ہیں، ہم شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ایئرپورٹ سے واپس گھر چلے جائیں، کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا‘۔

خواتین کو گھر بیٹھے تنخواہ دی جائے گی

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’خواتین سے متعلق ہماری پالیسی واضح ہےکام پر قدغن نہیں لگائیں گے، اداروں میں سیکیورٹی صورتحال ابھی بہتر نہیں اس لیے خواتین کو فی الحال روک دیا، ایسے خواتین کو گھر بیٹھ کر تنخواہیں ادا کی جائیں گی اور صورت حال بہتر ہوتے ہی انہیں کام پر آنے کی اجازت ہوگی‘۔

سفارت کاروں سے ملاقاتوں کا اعلان

’سفارت کاروں سے ملاقاتوں کا شیڈول بنا رہے ہیں تاکہ صورت حال آگے بڑھے، کوئی گرفتاری نہیں کی اور نہ ہی کسی پر تشدد کیا جائےگا،کسی سےکوئی انتقام نہیں لیا جارہا، ہم آگے بڑھنے کی پالیسی کو لے کر چل رہے ہیں‘۔

انخلا میں توسیع نہ دینے کا اعلان

ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا میں توسیع کو مسترد کردتے ہوئے کہا کہ ’31اگست تک انخلا کی ڈیڈلائن ہے، تاریخ میں کوئی توسیع نہیں کی جائےگی،امریکا اور نیٹو ممالک31 اگست تک انخلا مکمل کرلیں، اگر ڈیڈ لائن پر عمل نہ کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، افغان شہریوں کے انخلاکی اجازت نہیں دی جائےگی‘۔

پنچشیر تنازع

ذبیح اللہ نے یقین دہانی کرائی کہ پنچشیر تنازع بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرلیا جائے گا، امید ہے کہ وہ جنگ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ ہم جنگ کے حق میں نہیں مشترکہ طور پر افغانستان کی ترقی چاہتے ہیں، ہمارےامیر بہت جلدسامنےآئیں گے اور وہاں جاکر بات چیت کریں گے،ہمیں پنج شیر میں ایک محدود مسئلےکا سامنا ہے مگر ہم مسئلے کو ثالثی اوربات چیت سےحل کرنےکیلئےکام کررہےہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پنج شیرکامسئلہ بات چیت سےختم ہوناچاہیے کیونکہ ہم کسی افغان صوبے میں جنگ یا تشددنہیں چاہتے، پنج شیر کے باغی ہتھیار ڈال دیں، اُن کے تمام مطالبات کو مان لیا جائے گا‘۔

میڈیا سے متعلق پالیسی

ذبیح اللہ مجاہدنے کہا کہ میڈیاکےمحاصرے یا غیر ملکی صحافیوں پر پابندی کی کی کوئی پالیسی نہیں ہے،میڈیا سے متعلق کوئی واقعہ پیش آیا تو اس کی تحقیقات کریں گے‘۔

القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان سے متعلق کمیشن پر جواب

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’پرویزمشرف اس وقت ہماراموضوع نہیں جب وقت آئے گا تو اس معاملے پر بھی بات کریں گے، القاعدہ یا ٹی ٹی پی سے متعلق کمیشن کے حوالے سے مجھے کوئی علم نہیں ہے، یہ واضح ہے افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی‘۔

افغانستان کے پرچم سے متعلق وضاحت

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’نئی حکومت کے قوانین شرعی تقاضوں کے عین مطابق بنائے جائیں گے، حکومتی تشکیل کے بعد قومی پرچم کا معاملہ دیکھاجائےگا‘۔

بھارتی پروپیگنڈے سے متعلق سوال پر جواب

افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ’بھارت کا منفی پروپیگنڈا دیکھا، لیکن ہم کسی ملک کیخلاف نہیں ہیں،بھارت سمیت ہرملک کے ساتھ اچھےتعلقات کاقیام چاہتےہیں،بھارت کوکوئی مسئلہ ہے تو اُسے سفارتی طریقے سے حل کیا جائے گا‘۔

Related Articles

Back to top button