بین الاقوامی

کابل ائیرپورٹ لوگوں کی انخلا میں غیر معمولی تیزی آگئی

کابل ائیرپورٹ سے ملکی اور غیرملکی باشندوں کے انخلا میں غیر معمولی تیزی آگئی۔خبر ایجنسی کے مطابق گزشتہ24 گھنٹے میں 106 طیاروں نے لینڈنگ اور ٹیک آف کیا۔امریکی ایئر فورس کے 67 طیاروں کی آمد اور روانگی ہوئی۔رائل ایئر فورس کے طیاروں نے 10 لینڈنگ اور ٹیک آف کیں۔

ترکش ایئر فورس کے 3، اسپین ایئر فورس ، رائل نیوزی لینڈ ایئر فورس کےدودو جہازوں کی آمد ورفت ہوئی۔گلوبل ایکس کی 6 پروازوں کی آمد و روانگی ریکارڈ کی گئی، کال سائن کے بغیر 4 طیاروں نے لینڈنگ اور ٹیک آف کیا

جارجیا سے بھی 4 کارگو طیاروں کی آمد اور روانگی مانیٹر کی گئی۔جبکہ پینٹا گون کا کہنا ہے کہ کابل ائیرپورٹ سے 24 گھنٹے میں 16 ہزار افراد کو نکلا گیا ہے۔ کابل ائیرپورٹ سے 61 کمرشل، چارٹرڈ اور دیگر پروازوں کے ذریعے لوگوں کو نکالا گیا

خصوصی ویزا کے حامل افغان بانشدوں کو بھی افغانستان سے نکالا گیا۔ پینٹاگون کے مطابق اب تک کابل ائیرپورٹ سے42 ہزار لوگوں کو نکالا جاچکا ہے۔

یاد رہے کے امریکی صدر جوبائیڈن نے اکتیس اگست تک انخلا مکمل کرنے کی امید ظاہر کی ہے ساتھ ہی انکا کہنا تھا کہ انخلا کی تاریخ میں توسیع کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی وزرا کا کہنا ہےکہ جی سیون اجلاس کے موقع پر وزیراعظم بورس جانسن امریکی صدر جوبائیڈن سے افغانستان سے انخلا کی حتمی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کریں گے۔

دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی افواج کے انخلا کی تاریخ میں توسیع نہیں ہو گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ 31 اگست غیر ملکی افواج کے انخلا کی ڈیڈلائن نہیں بلکہ ان کے لیے ریڈلائن ہے۔

سہیل شاہین نے خبردار کیا کہ اگر اس میں توسیع کی جاتی ہے، تو اسے قبضے میں توسیع سمجھا جائے گا اور اس پر شدید ردعمل بھی آ سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button