بین الاقوامی

طالبان کی حامد کرزئی،عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار سےمشاورت

افغانستان میں مستقبل کی حکومت کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن انس حقانی نے کابل میں گلبدین حکمت یار سابق افغان صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے اہم ملاقات کی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ملاقات میں حکومت سازی کے مختلف امور اور دیگر سیاسی معاملات زیرغور کیا گیا۔

دوسری جانب طالبان کے مرکزی رہنما ملا عبدالغنی برادرآٹھ دیگر ارکان کے ہمراہ قندھار میں موجود ہیں۔ عبدالغنی برادر گزشتہ رات دوحہ سے افغانستان پہنچ گئے تھے۔

دوسری جانب طالبان کی جانب سے کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد امریکہ نے افغان مرکزی بینک کے امریکہ میں 9.5 بلین ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدہ دار نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان کو رقم کی ترسیل روک دی ہے، افغان حکومت کے امریکہ میں موجود اثاثے اب طالبان کو دستیاب نہیں ہوں گے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے طالبان کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔

دوسری جانب افغان مرکزی بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے کرنسی کے ذخائر زیادہ تر غیر ملکی کھاتوں میں موجود ہیں اور طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ان ذخائر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔

افغان مرکزی بینک کے ذخائر کی مالیت تقریبا 9 بلین ڈالر ہے جن میں سے تقریبا 7 بلین ڈالر مالیت کی نقد رقم، سونے کے امریکی بانڈز اور دیگر کاغذوں کے مرکب امریکی فیڈرل ریزرو بینک میں رکھے گئے ہیں۔

دوسری جانب سابق قائم مقام گورنر اجمل احمتی نے ٹویٹر پر کہا ہے افغانستان کے بین الاقوامی ذخائر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے اور وہ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک کے اکاؤنٹ سے افغانستان کا کوئی بھی پیسہ چوری نہیں ہوا ہے۔ میں ایسے منظر نامے کا تصور بھی نہیں کر سکتا جہاں خزانے اور فنڈز تک طالبان کو رسائی حاصل ہو۔

Related Articles

Back to top button