بین الاقوامی

نسل پرستانہ پوسٹیں، فیس بک اور ٹوئٹر نے پولیس کی مدد کرنی شروع کردی

فیس بک اور اور ٹوئٹر نے یورو کپ 2020 کے فائنل میں شکست کے بعد انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ پوسٹیں شیئر کرنے والے افراد کی ذاتی تفصیلات برطانوی پولیس کے حوالے کردی ہیں۔

برطانوی آن لائن اخبار دی میل کی رپورٹ کے مطابق نسل پرستانہ پوسٹیں شیئر کرنے کے الزام میں اب تک پانچ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ درجنوں دیگر افراد کا کھوج لگانے کے لیے ٹوئٹر اور فیس بک کی انتظامیہ تفتیشی پولیس افسران کے ساتھ کام کررہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک اور ٹوئٹر تفتیشی پولیس کو نسل پرتسانہ اور امتیازی پیغامات شیئر کرنے والے صارفین کے نام ، ای میل اور آئی پی ایڈریس فراہم کریں گی۔

اٹلی کے ہاتھوں پینلٹی شوٹس میں شکست کے بعد انگلینڈ کے کھلاڑی مارکس راشفورڈ ، جادون سانچو اور بوکایو ساکا کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور کچھ سوشل میڈیا صارفین نے ان پر ذاتی حملے کیے تھے جس کے بعد برطانیہ کے فٹ بال پولیسنگ یونٹ (یوکے ایف پی یو) نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نسل پرستانہ پوسٹیں شیئر کرنے والے تین ملزمان پلسٹرر بریڈ پریٹی، اینڈریو بون اور نک اسکاٹ کی پہلے ہی شناخت ہوچکی ہے جبکہ گریٹر مانچسٹر کے اشٹون المرسی سے تعلق رکھنے چوتھے مشتبہ شخص کو کل گرفتار کیا گیا۔ رن کارن سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ شخص کو چیشائر پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

دوسری جانب ٹوئٹر نے کہا کہ فائنل میچ کے بعد شیئر کی گئی 1،000 سے زائد نسل پرستانہ پوسٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے اور ٹوئٹر قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر متعدد اکاؤنٹس کو معطل کردیا گیا ہے۔

فیس بک نے کہا ہے کہ اس نے بھی فوری طور پر اپنے پلیٹ فارم اور انسٹاگرام پر نسل پرستانہ مواد کو ہٹادیا ہے۔

دوسری جانب ٹاپ فلائٹ فٹ بال کلبوں کے ساتھ کام کرنے والی کمپنی کرسپ کہا ہے کہ یورو کپ کے دوران انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر 12،500 نفرت انگیز اور نسل پستانہ پیغامات شیئر کیے گئے جن میں کیلے اور بندر کے ایموجیز بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق کھلاڑیوں کے خلاف ٹویٹر اور انسٹاگرام کے اکاؤنٹس سے کیے گئے 10،000 پیغامات میں نسل، مذہب، جنسی رجحان، انتہائی ذاتی نوعیت کے تبصرے شامل تھے۔ ان میں سے بعض پوسٹوں میں کھلاڑیوں اور ان کے خاندان کے افراد کو مارنے کی بھی دھمکی دی گئی تھی۔

ٹورنامنٹ کے دوران کھلاڑیوں کے اکاؤنٹس میں پوسٹ کرنے والے تمام صارفین میں سے بدسلوکی اکاؤنٹس کی تعداد 3 فیصد کے برابر ہے۔

انسٹاگرام کے چیف ایگزیکٹو ایڈم موسری نے کہا ہے کہ کمپنی کے سراغ لگانے والے سافٹ ویئر میں خامیوں کی وجہ سے گالم گلوچ والی پوسٹوں کو شیئر کیا گیا ہے لیکن اب اس نقص پر قابو پایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’انسٹاگرام پر نسل پرستانہ اموجیز یا کسی بھی طرح کی نفرت انگیز مواد شیئر کرنا قطعی طور پر ممنوع ہے۔

دوسری جانب یوکے ایف پی یو پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتوار کے روز ٹلی کے ہاتھوں انگلینڈ کی شکست کے بعد ٹیم کے چند سیاہ فام کھلاڑیوں کے خلاف فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر نفرت انگیز اور نسل پرستانہ مواد شیئر کیا گیا۔

یوکے ایف پی یو کے نفرت انگیز مواد کی تفتیش کرہی ہے اور اب تک سوشل میڈیا کمپنیوں کو درجنوں اعداد و شمار کی درخواستیں جمع کروائی گئیں ہیں اور اب تک چار افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

نیشنل پولیس چیفس کونسل کی فٹ بال پولیسنگ کی سربراہ چیف کانسٹیبل مارک رابرٹس نے کہا کہ اتوار کی رات کے کھیل کے بعد ہمارے اپنے کھلاڑیوں کو نسلی امتیاز سلوک کا نشانہ بنانا سراسر ناجائز ہے اور اس نے پورے ملک میں لوگوں کو حیران کردیا ہے۔

Related Articles

Back to top button