بین الاقوامی

افغانستان میں فوج کی کمان جنرل کینتھ میکنزی کے حوالے کردی

امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر نے فوج کی کمان جنرل کینتھ میکنزی کے حوالے کردی ہے۔ وہ افغانستان میں امریکی و نیٹو افواج کے سربراہ کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ افغانستان: قبضے اور پر تشدد حملوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو فضائی حملوں کیلیے تیار رہیں، جنرل ملر

عالمی خبر رساں ایجنسی اور مؤقر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکی فوج کی کمانڈ میں تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے کہ جب امریکہ سمیت دیگر غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو رہا ہے اور افغان طالبان کی پیش قدمی میں نہایت تیزی آچکی ہے۔

ایک اور عالمی خبر رساں ایجنسی نے اس ضمن میں دعویٰ کیا ہے کہ فوج کے نئے کمانڈر جنرل کیتھ میکنزی فلوریڈا میں سینڑل کمانڈ کے ہیڈکوارٹرز سے فوج کی کمانڈ کریں گے۔

جنرل میکنزی کی کمانڈ میں امریکی فوج ممکنہ طور پر افغان فوج کی مدد کے لیے کم از کم 31 اگست تک فضائی حملے کرے گی جب امریکہ کا انخلا مکمل ہوگا۔

افغانستان: افغان طالبان بدخشاں تک پہنچ گئے

امریکی فوج کے کمانڈ سے دستبردار ہونے والے جنرل ملر 2018 سے افغانستان میں تھے۔ رواں سال مئی میں امریکی صدر جو بائیڈن جو کہ امریکی افواج کے کماندڑ انچیف بھی ہیں، نے انہیں افغانستان سے امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کا ٹاسک سونپا تھا جو کہ اگست میں مکمل ہوگا۔

مئی سے اب تک افغانستان میں اس وقت موجود دو ہزار 500 فوجیوں میں سے بیش تر امریکہ جا چکے ہیں اور امریکہ نے بگرام کا فوجی اڈہ بھی باضابطہ طور پر خالی کرکے افغان فوجیوں کے حوالے کر دیا ہے۔

امریکی اور اتحادی افواج نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران بگرام ایئربیس سے طالبان اور القاعدہ کے خلاف آپریشنز کیے گئے۔

افغانستان: حکومتی فورسز کا 200 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ

طے شدہ منصوبے کے تحت 31 اگست کے بعد صرف 650 امریکی فوجی افغانستان میں رہیں گے جو کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارتخانے کی سیکیورٹی سنبھال لیں گے۔

Related Articles

Back to top button