بین الاقوامی

طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں میں بھارت کا ہاتھ

طویل عرصے سے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف مذموم منصوبہ بندی کرنے والا بھارت ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔

افغانستان میں جاری طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں میں بھارت کے ڈبل گیم کھیلنے کا ڈرامہ بے نقاب ہوگیا ہے، ایک طرف طالبان سےمذاکرات جبکہ دوسری جانب انکےخلاف اسلحےکی فراہمی نے بھارت کے مذموم مقاصد کا پرچہ چاک کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سفارتی عملےکےانخلاکےنام پر دوبھارتی سی17 طیاروں کی افغانستان آمد ہوئی،طیارے بظاہر اپنےعملےکو لینےآئےلیکن درحقیقت دونوں اسلحے سے بھرے ہوئے تھے یہ طیارے افغانستان میں اسلحےکی بڑی کھیپ اتار کر آئے، بھارتی طیاروں میں لایا گیا اسلحہ افغان طالبان کےخلاف استعمال ہوناہے۔

یہ اسلحہ بھارت نے طالبان کےخلاف اشرف غنی حکومت کو فراہم کیا، رپورٹ کے مطابق دس جولائی کو بھارتی طیارہ قندھار میں 122ایم ایم کنن کی40ٹن گولیاں لےکر گیا جبکہ گیارہ جولائی کو دوسرےطیارےسے40ٹن گولیاں کابل پہنچائی گئیں۔کابل اورقندھارمیں بھارتی طیاروں سےاسلحہ اتارتےبھی دیکھا جاسکتا ہے

اس طرح کے واقعات منظر عام پر ہونے کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی ایک طرف مذاکرات کا راگ الاپ رہا ہے جبکہ دوسری طرف وہ طالبان کی پیٹھ پرچھراگھونپنے میں مصروف ہے۔

گذشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے افغانستان کی صورت حال پر اے آروائی نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی افغانستان میں سرمایہ کاری نیک نیتی سےہوتی تو پریشان نہ ہوتے، آج بھارت کو افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظرآرہی ہے، پاکستان نے پوری کوشش کہ مسئلے کا حل بغیر لڑائی پرامن طریقے سے ہوسکے۔

Related Articles

Back to top button