بین الاقوامی

افغانستان حکومتی فورسز اور طالبان میں شدید جھڑپیں، مقامی فوج کا بڑا دعویٰ

افغانستان کے 26 صوبوں میں حکومتی فورسز اور طالبان میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق فورسز نے 24 گھنٹوں کے دوران 200 کے قریب طالبان جنگجووں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ طالبان نے حکومتی فورسز کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق تخار صوبے میں افغان ملیشا اور طالبان کے درمیان لڑائی کے دوران سابق مجاہد کمانڈر اور ملیشا کے جنرل گل آغا مارے گئے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: افغان طالبان بدخشاں تک پہنچ گئے

دوسری جانب نمروز صوبے کے شہر دل آرام میں کار بم دھماکے میں اففان فورسز کے 15 سے زائد اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے افغان طالبان کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ وہ ملک کے 85 فیصد علاقے پر قبضہ حاصل کرچکے ہیں۔

اس سے قبل طالبان نے تاجکستان کی سرحد کے قریب بدخشاں صوبے کے 6 اضلاع پر قبضے کا دعوی کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 1000 سے زیادہ افغان سرکاری فوجی فرار ہو کر سرحد پار تاجکستان میں داخل ہو گئے تھے جب کہ ایک ہزار سے زائد افغان شہری بھی تاجکستان میں پناہ لے چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق صرف پچھلے ہفتے کے دوران مختلف جھڑپوں میں کم از کم 56 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

Related Articles

Back to top button