بین الاقوامی

امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور مزید مذاکرات کیلئے تیار ہیں: روسی صدر

روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے تعلقات کی بہتری کے لیے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اسے امریکی حکومت کی خواہش سے مشروط کردیا۔

روسی صدر کا یہ بیان ان کی امریکی صدر جوبائیڈن سے 16 جون کو جنیوا میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک میں بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے لیے ملاقات کی تھی، جسے قدرے دوستانہ ملاقات قرار دیا گیا تھا۔

مذکورہ ملاقات کے بعد روسی صدر نے امریکا سے تعلقات کی بہتری کے لیے مزید مذاکرات کو امریکی خواہش سے مشروط کرنے کا بیان دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایجنسی فرانس پریس‘ (اے ایف پی) شائع خبر کے مطابق ولادمیر پیوٹن نے امریکی صدر جوبائیڈن سے 16 جون کو ہونے والی ملاقات کے بعد ملکی ٹی وی پر خطاب کے دوران امریکی حکومت سے مذاکرات کو جاری رکھنے سے متعلق بات کی۔

ولادمیر پیوٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر امریکا تیار ہے تو روس بھی ان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے مزید مذاکرات کرنے کو تیار ہے۔

انہوں نے جوبائیڈن سے ہونے والی ملاقات پر بات کرتے ہوئے اسے ‘دوستانہ ملاقات‘ قرار دیا اور کہا کہ ملاقات کے بعد دونوں رہنما دونوں ممالک کے اہم مسائل کو سمجھنے میں کامیاب رہے۔

ولادمیر پیوٹن نے جوبائیڈن کی تعریف کرتے ہوئے انہیں پیشہ ورانہ قرار دیا اور ساتھ ہی کہا کہ ان کے ساتھ کام کرنے کے دوران ہر کسی کو محتاط رہنا پڑتا ہے تاکہ کوئی غلطی نہ ہو۔

تاہم ساتھ ہی ولادمیر پیوٹن نے سوال اٹھایا کہ اگر امریکی صدر صحیح ہیں تو پھر غلطی کہاں ہے؟

ولادمیر پیوٹن نے اپنے ہی اٹھائے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے وائیٹ ہاؤس کی خاتون سیکریٹری جین پاسکی کا ذکر کیا اور ان کی تعریف کرتے ہوئے دبے الفاظ میں ان پر طنز بھی کی۔

روسی صدر نے کہا کہ جین پاسکی خوبصورت، تعلیم یافتہ اور نوجوان خاتون ہیں، ایسا نہیں ہے کہ وہ کم تعلیم یافتہ ہیں یا ان کی یادداشت کمزور ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اہم مسائل اور چیزوں کو ثانوی سمجھتے ہیں۔

ولادمیر پیوٹن نے کہا کہ امریکی سمجھتے ہیں کہ دنیا کی کوئی بھی چیز ان سے زیادہ اہم نہیں ہے۔

روسی صدر کے مذکورہ بیان سے قبل روسی صدارتی ہاؤس نے گزشتہ روز ولادمیر پیوٹن کی امریکی ہم منصب سے ملاقات پر بھی مختصر بیان جاری کرتے ہوئے اسے اہم قرار دیا تھا۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے تناظر میں روسی نائب وزیر خارجہ نے بھی گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایٹمی جنگ کے امکانات کو مسترد کرنے پر اتفاق اہم کامیابی ہے۔

خیال رہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے صدور نے کئی معاملات پر اتفاق کیا تھا۔

دونوں کی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں سفرا کی واپسی سمیت ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے سے متعلق ’نیو اسٹارٹ‘ نامی معاہدے کے تناظر میں بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

دونوں صدور کے درمیان ہونے والی ملاقات کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیوں کہ گزشتہ چند سال میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ہوئی ہے اور اس کشیدگی میں جوبائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد تیزی دیکھی گئی تھی۔

دونوں صدور کے درمیان 16 جون کو ہونے والی ملاقات کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک میں کشیدگی کم ہوگی۔

Related Articles

Back to top button