بین الاقوامی

افغانستان میں کورونا کی وبا ایک بار پھر بے قابو

افغانستان میں کورونا کی وبا بےقابو ہوگئی ہے جہاں گزشتہ ایک ماہ میں کیسز میں 2 ہزار 400 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ہلال احمر اور ریڈ کراس سوسائٹیوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو رہی ہے اور طبی وسائل تیزی سے معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق آئی ایف آر سی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے تین چوتھائی سے زائد ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے۔

افغان ہلال احمر سوسائٹی کے قائم مقام صدر نیلاب موباریز نے کہا کہ ‘کورونا کے خلاف لڑائی میں افغانستان بحران کا شکار ہے اور دارالحکومت کابل اور کئی دیگر علاقوں میں ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہوچکی ہے’۔

وائرس کے اس پھیلاؤ نے ملک پر شدید دباؤ ڈالا ہے جہاں کروڑوں لوگ پہلے ہی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور طبی وسائل معدوم ہیں۔

حکام صحت کے مطابق جمعرات کو 2 ہزار 313 مثبت کیسز سامنے آئے اور رکارڈ 101 اموات ہوئیں۔

عہدیداران اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کم ٹیسٹ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار ڈرامائی طور پر حقیقت سے کم ہیں۔

افغانستان کے صحت کے کمزور نظام کو دہائیوں کی جنگوں سے شدید نقصان پہنچا ہے، جہاں حالیہ ماہ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ملک کے بڑے ہسپتالوں نے رواں ہفتے تیزی سے کیسز سامنے آنے کے بعد کورونا کے نئے مریضوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے ہیں۔

آئی ایف آر سی نے خبردار کیا ہے کہ ویکسین تک رسائی میں کمی اور اسے لگوانے میں تذبذب کے باعث صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے، اب تک صرف 0.5 فیصد افغان آبادی کو ویکسین کی مکمل خوراکیں دی گئی ہیں۔

افغانستان میں گزشتہ ہفتے چین کی سائنوفارم ویکسین کی تقریباً 7 لاکھ خوراکیں پہنچی تھیں، جس کے بعد انتظامیہ نے ویکسی نیشن مہم کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا تھا۔

افغانستان کے لیے آئی ایف آر سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ‘سوسائٹی، وسائل کی فراہمی اور آکسیجن کی پیداوار میں اضافے کے لیے افغان حکام کے ساتھ کام کر رہی ہے’۔

Related Articles

Back to top button