بین الاقوامی

موساد کے سابق سربراہ نے ایران کیخلاف خفیہ آپریشن سے پردہ اٹھا لیا

اسرائیلی جاسوس ادارے موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے خلاف کیے گئے خفیہ آپریشن سے پردہ اٹھا دیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق موساد کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سربراہ نے اپنے ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف کیے گئے آپریشن کی تفصیلات بتائیں۔

یوسی کوہن نے انٹرویو کے دوران ایران کی جوہری دستاویزات کی چوری سے متعلق بھی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سال 2018 میں ایران سے لاکھوں دستاویزات چوری کر کے اسرائیل بھیجی گئی تھیں۔

موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے ایک جوہری پلانٹ کی تباہی اور جوہری سائنسدان کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا بھی اشارہ دیا۔

کوہن کا کہنا تھا کہ اُنھیں ایران کے خلاف خفیہ آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے میں دو سال لگے۔ اس میں ایرانی سرزمین پر کُل 20 موساد کے ایجنٹ شامل تھے جن میں سے کوئی بھی اسرائیلی شہری نہیں تھا۔

واضح رہے کہ موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن گزشتہ ہفتے ریٹائر ہوئے ہیں۔ جنہیں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سال 2015 کے اختتام پر موساد کا سربراہ بنایا تھا۔

Related Articles

Back to top button