بین الاقوامی

اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے پرامن اجتماع کا احترم اور تحمل کا مظاہرہ کرے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے پرامن اجتماع کا احترم اور تحمل کا مظاہرہ کرے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مقبوضہ مشرقی بیت المقسد میں مسلسل کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا’۔

بیان میں کہا گیا کہ انتونیو گوتریس نے ‘شیخ جراح اور سلوان کے علاقوں سے فلسطینی خاندانوں کی ممکنہ بے دخلی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا’۔

انہوں نے ‘اسرائیل پر زور دیا کہ وہ انہدام اور بے دخلی کے عمل کو بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قوانین کی روشنی میں روک دے’۔

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ ‘اسرائیلی حکام تحمل کا مظاہرہ کریں اور پرامن اجتماع کے حق کا احترام کریں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘تمام قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرے اور کشیدگی اور اکسانے کے تمام حربوں کے خلاف آواز اٹھائیں’۔

بیان کے مطابق ‘سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ مقدس مقامات کا تقدس برقرار رکھا جائے اور احترام کیا جائے’۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے کا اپنے عزم کا اظہار کیا اور اسرائیل پرزور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں، بین الاقوامی قانون اور دو طرفہ معاہدوں کی بنیاد پر تنازع کو حل کریں۔

خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد زخمی ہوچکے ہیں.

اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں خصوصی عبادات کے لیے مسجد اقصیٰ کے قریب جمع ہونے سیکڑوں فلسطینیوں کو مسلسل دوسری رات بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 80 افراد زخمی ہوئے جن میں کم سن اور ایک سال کی عمر کا بچہ بھی شامل تھا جبکہ 14 افراد کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اس سے قبل جمعہ کو مشرقی بیت المقدس میں رات کے وقت ہونے والی جھڑپ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی صحت ورکرز نے بتایا تھا کہ کم از کم 205 فلسطینی اور 17 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

تازہ واقعات کے حوالے ہلال احمر نے صحافیوں کو ایک مختصر بیان میں کہا کہ ‘حملوں میں سیکڑوں افراد زخمی ہیں’ اور ان میں سے 50 کو علاج کےلیے ہسپتال داخل کرایا گیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے مشرقی بیت المقدس پر قبضے کا سالانہ جشن ‘یومِ یروشلم’ منانے سے قبل ہی علاقے میں کشیدگی جاری تھی۔

اسرائیل نے 1967 میں جنگ کے ذریعے مشرقی بیت المقدس اور اولڈ سٹی پر قبضہ کرلیا تھا جو یہودیوں اور مسیحیوں کے لیے مقدس مقامات ہیں۔

ماہِ رمضان میں اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ تشدد کا مرکز بنا ہوا ہے۔

تناؤ کو دور کرنے کی کوشش میں اسرائیلی پولیس نے کہا کہ انہوں نے یہودی گروپوں پر ‘یوم یروشلم’ کے موقع پر بیت المقدس کے مقدس پلازہ کے دورے پر آنے کی پابندی عائد کردی ہے۔

علاوہ ازیں اسرائیلی پولیس کی جانب سے ‘یوم یروشلم’ پر منعقد ہونے والے مارچ کا معین راستہ بھی تبدیل کردیا جائے گا جس میں ہزاروں یہودی نوجوان پرچم لہراتے ہوئے اولڈ سٹی کے دمشق گیٹ اور مسلم کوارٹر سے گزرتے ہیں۔

براہ راست ویڈیو میں دکھایا گیا کہ فلسطینی اور اسرائیلی پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئی اور اسرائیلی پولیس نے نہتے فلسطینوں پر اسٹین گرینیڈ استعمال کیے۔

مشرقی بیت المقدس میں شیخ جراح کے پڑوس سے متعدد فلسطینی خاندانوں کو منصوبہ بندی کے تحت بے دخل کیے جانے پر بھی جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

Related Articles

Back to top button