بین الاقوامی

ترک صدر نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دے دیا

ترک صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینی نوجوانوں پر مسجد اقصیٰ میں ربڑ کی گولیوں، گرینیڈ سے حملوں اور تشدد پر اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دے دیا۔

خیبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوان نے کہا کہ انقرہ نے عالمی اداروں کو جھنجوڑنا شروع کردیا ہے۔

مسجد اقصیٰ اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس کی فائرنگ 205 فلسطینی نوجوان زخمی ہوگئے تھے جبکہ اسرائیل کے 16 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی تھیں۔

مذکورہ واقعے کے بعد فلسطینوں کے حقوق اور یہودی آباد کاروں کی جانب سے مقامی فلسطینینیوں کو بے دخل کرنے کے حوالے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور سوشل میڈیا پر اسرائیلی پولیس کے حملوں کی ویڈیوز بھی وائرل ہوگئی تھیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی سپریم کورٹ بھی سماعت کرے گی۔

استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران اردوان نے تمام مسلمان ممالک اور عالمی برادری سے اسرائیل کے ‘مؤثر اقدامات’ کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جو ان ظالمانہ واقعات پر خاموش ہیں وہ پارٹی ہیں۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ‘ظالم، دہشت گرد ریاست اسرائیل بے رحمی اور غیر اخلاقی طور پر بیت المقدس میں مسلمانوں پر حملہ آور ہے’.

ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے اقوام متحدہ، فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور تمام متعلقہ اداروں کو فوری کارروائی کرنے کے لیے ضروری ہے اقدامات کردیے ہیں۔

فلسطینیوں پر اسرائیل کی فورسز کے مظالم کے خلاف ترکی کے دیگر عہدیداروں اور الوزیشن نے بھی فوری طور پر مذمتی بیانات جاری کیے تھے۔

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یروشلم میں امن و امان بحال کیا جائے گا اور عبادت کا حق دیا جائے گا۔

مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں پر اسرائیلی حملے کے خلاف انقرہ میں اسرائیلی سفارت خانے اور استنبول میں قونصل خانے کے باہر کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کے باوجود سیکڑوں افراد جمع ہو کر پرتشدد واقعات کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

ترکی نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا تاھ کہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی اسرائیلی منظم کوششیں طویل قانونی جنگ کی خلاف ورزی ہے اور ترک صدر نے بے دخلی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

طیب اردوان نے خبردار کیا تھا کہ دوسری صورت میں ظلم و زیادتی کے خاتمے کے لیے وہ سب کچھ کریں گے جو کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ جمعے کو مشرقی بیت المقدس میں رات کے وقت ہونے والی جھڑپ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی صحت ورکرز نے بتایا تھا کہ کم از کم 205 فلسطینی اور 17 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے۔

امریکا اور اقوام متحدہ کی طرف سے تشدد میں کمی کا مطالبہ سامنے آیا جبکہ یورپی یونین اور اردن سمیت دیگر نے ممکنہ بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

علاوہ ازیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کے حملوں کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کے تل ابیب کے منصوبوں کی مذمت کی ہے۔

Related Articles

Back to top button