افغانستان سے فوجی انخلا، امریکی اخبار کا جوبائیڈن انتظامیہ کے اگلے منصوبے سے متعلق بڑا دعویٰ

افغانستان سے فوجی انخلا، امریکی اخبار کا جوبائیڈن انتظامیہ کے اگلے منصوبے سے متعلق بڑا دعویٰ

امریکی اخبار نے افغانستان سے فوجی انخلا کی نئی تاریخ سامنے آنے کے بعد جوبائیڈن انتظامیہ کے اگلے منصوبے سے متعلق بڑا دعویٰ کردیا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے افغانستان سے فوجی انخلا سے متعلق آرٹیکل میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کا افغانستان کے پڑوس میں نئی فورس کی تعیناتی کا منصوبہ ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق پینٹاگون خطے میں عدم استحکام روکنے کے لیے فورس تعیناتی پر غور کررہا ہے، پینٹاگون کا مقصد افغانستان کو پھر دہشت گردی کا اڈہ بننے سے روکنا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا افغانستان کے پڑوس میں فورس تعیناتی کے لیے اتحادیوں سے رابطے میں ہے، نئی فورس تاجکستان، قازقستان اور ازبکستان میں تعینات کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر جوبائیڈن نےافغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی نئی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے افغان امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ’یکم مئی 2021 سے افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے انخلا کا عمل شروع ہوجائے گا اور 11ستمبر تک افغانستان سے تمام امریکی فوجی نکل جائیں گے‘۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ’میں چوتھا صدر ہوں جس کے دور میں امریکی فوج افغانستان میں تعینات ہے، اب یہ ذمہ داری پانچویں صدر کو نہیں سونپوں گا، امریکا نے افغانستان میں اپنے اہداف مکمل کرلیے ہیں‘۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ’طالبان اور افغان حکومت نے امریکا کو مستقبل میں پرامن رہنے کی یقین دہانی کرائی اور یہ بھی واضح کیاکہ اتحادی ممالک کے خلاف بھی افغان سرزمین استعمال نہیں ہوگی، سفارتی اورانسانی خدمت کےکام افغانستان میں جاری رہیں گے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں