کورونا پابندیوں کے باعث شہریوں کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے عارضی طور پر نرمی کا اعلان

کورونا پابندیوں کے باعث شہریوں کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے عارضی طور پر نرمی کا اعلان

برطانوی حکومت نے کورونا پابندیوں کے باعث شہریوں کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے عارضی طور پر نرمی کردی ہے جس پر شہریوں نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ نے معمولات زندگی کی بحالی کی طرف عارضی اقدام اٹھاتے ہوئے کورونا وائرس کے پیش نظر نافذ کی گئی پابندیوں میں نرمی برتتے ہوئے پب اور ریستوران جزوی طور پر کھول دیے ہیں۔

لندن کے ایک علاقے آسکرج میں واقع ریستوران “دا کراؤن ان” کی مالک لوئس پورٹر نے بتایا کہ سب کو ایک بار پھر دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔

ان ڈور جم خانے، سوئمنگ پولز، لائبریریاں اور چڑیا گھر کے دروازے بھی کھول دیے گئے ہیں۔ ایک سال بعد مساجد میں رواں ہفتے رمضان کی آمد کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں، گذشتہ سال کورونا کی وبا کی وجہ سے مسلم طبقے کے اجتماعات پر پابندی عائد تھی۔

برطانیہ کی مسلم کونسل کی سیکرٹری جنرل زارا محمد نے میڈیا کو بتایا کہ رمضان میں سماجی دوری کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے نمازوں کی بحالی عقیدت مندوں کو ایک نئی امید دے گی۔

وزیراعظم بورس جانسن نے پابندیوں میں ان نرمیوں کو “آزادی کی طرف ایک بڑا قدم” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ یہ کاروباری افراد کے لیے ایک بڑا ریلیف ثابت ہوگا جن کے کاروبار کافی عرصے سے بند پڑے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کے لیے ایک موقع ہے کہ پھر سے ان تمام چیزوں میں سے کچھ کریں جو ہمیں پسند ہیں اور جو چھوٹ گئی تھیں۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا وائرس کے سبب نافذ لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا فیصلہ کرتے ہوئے اس حوالے سے روڈ میپ کا اعلان کیا تھا۔

پیر کو نشر کی گئی پریس کانفرنس میں بورس جانسن نے بتایا کہ آگے بڑھنے کے لیے دوسرے مرحلے میں طے کیے گئے اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور وبا سے بچاؤ کی پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ 12 مارچ سے جم، ہیئر ڈریسر کی دکانیں اور کھلی جگہ پر کھانے پینے کی سہولیات کی فراہمی کی اجازت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ وبا کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں درست ہیں۔ برطانیہ میں آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر تاحال پابندی نافذ ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں