روس نے صدر ولادی میر پیوٹن کو کورونا سے بچانے کے لیے کتنا خرچ کیا؟

روس نے صدر ولادی میر پیوٹن کو کورونا سے بچانے کے لیے کتنا خرچ کیا؟

امریکا کے اقتصادی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روس نے اپنے صدر ولادی میر پیوٹن کو کورونا سے بچانے کے لیے اب تک لاکھوں ڈالرز خرچ کردیے۔

بلومبرگ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین رہنما ولادی میر پیوٹن کو عالمی وبا کرونا سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے غیر معمولی اقدامات کیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے روسی صدر کو کرونا سے محفوظ رکھنے کے لیے اب تک لاکھوں ڈالرز خرچ کیے جبکہ اخراجات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

انکشاف کیا گیا ہے کہ ولادی میر پیوٹن سے قریبی رابطہ رکھنے والے سیکڑوں افراد کو کئی روز تک قرنطینہ کیا گیا جبکہ کچھ نے خود ساختہ آئسولیشن اختیار کی تاکہ مستقبل میں وہ صدر سے ملاقات کرسکیں۔

سیکڑوں پائلٹس، طبی عملے کے اراکین، ڈرائیورز، صدارتی محل کے ملازمین سمیت دیگر افراد کو حکومتی اخراجات پر درجنوں نجی ہوٹلوں میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد ولادی میر پیوٹن کو کرونا کے انفیکشن سے محفوظ رکھنا ہے۔

صدارتی امور کے ذمہ دار ادارے ’ڈائریکٹوریٹ آف دی پریزیڈینٹ آف دی رشیئن فیڈریشن‘ کو کرونا کا مقابلہ کرنے کے لیے ملکی بجٹ سے 6.4 ارب روبلز (تقریباً آٹھ کروڑ 40 لاکھ ڈالرز) دیے گئے ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق صدر سے ملاقات سے قبل200 لوگوں بشمول جنگ میں شریک ہونے والے 80 اور 90 سال سے زائد عمر کے سابق اہلکاروں کو دو ہفتے قرنطینہ میں رہنا پڑا۔ دوسری عالمی جنگ میں حاصل ہونے والی فتح کی 75ویں سالانہ تقریب کا گزشتہ دنوں انعقاد کیا گیا جس میں ولادی میر پیوٹن نے فوجیوں اور مشہور شخصیات کو سماجی فاصلے کے تحت اعزازت دیے اور مصافحے سے بھی گریز کیا تھا۔

خیال رہے کہ روس میں اس وقت 45 لاکھ 97 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور اموات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ ایک ہزار 106 ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں