آئس لینڈ میں آتش فشاں پھٹ گیا، تفصیلات جانیئے

آئس لینڈ میں آتش فشاں پھٹ گیا، تفصیلات جانیئے

آئس لینڈ میں ہزاروں زلزلوں کے بعد آخر کار آتش فشاں پھٹ گیا، زمین سے نکلنے والے آگ کے شعلوں اور ابلتے ہوئے لاوے نے دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کردیا۔آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکجیک کے قریب واقع گیلڈن آڈالور میں آتش فشاں پھوٹ پڑا۔ اس کا نظارہ واقعی انوکھا ہے۔ ہر طرف آگ ہی آگ دیکھنے کو مل رہی…

آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات کے دفتر نے بتایا ہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں میں اس علاقے میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے زلزلوں کے بعد جمعہ کے روز دارالحکومت ریکجیک کے قریب آئس لینڈ میں آتش فشاں پھٹ گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکجیک سے40کلومیٹر دور آتش فشاں پھٹنے کے بعد سرخ بادل نے رات کے آسمان کو روشن کردیا۔ اس علاقے میں ایک فلائی زون بھی قائم کیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس آتش فشاں تک پہنچنے کے لئے سیاحوں کو تقریباً 8 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑا لیکن یہاں پہنچنے کے بعد دوبارہ سڑک پر واپس پہنچنے میں انہیں کافی دشواریوں کا بھی سامنا رہا۔

اس سفر کے تعلق سے ایک سیاح ایگل اورن کا کہنا ہے کہ اس آتش فشاں تک پہنچنے کے لیے ہم نے تقریبا تین گھنٹے کا سفر کیا ہے۔

گذشتہ رات 100 سے زیادہ ریسکیو اہلکاروں نے مسافروں کو بحفاظت واپس ان کی گاڑیوں تک پہنچانے میں کافی مدد کی ہے، جبکہ اس علاقے کا موسم بھی کافی خراب ہے۔ خراب موسم کی وجہ سے اس آتش فشاں کو عوام کے لئے بند کردیا گیا ہے۔

ہفتوں انتظار کے بعد آخرکار آئس لینڈ کا یہ آتش فشاں پھوٹ پڑا، گذشتہ تین ہفتوں میں 50 ہزار سے زائد یہاں زلزلے آئے جس کے بعد جمعہ (19 مارچ) کی شام اس کے پھٹنے کی شروعات ہوئی۔

اس حوالے سے پروفیسر جینیوا یونیورسٹی جوئل رچ نے بتایا کہ ہم یہاں تقریباً دو ہفتوں سے ہیں، یہاں کا نظارہ واقعتا بے حد شاندار ہے، ہم اس علاقے میں کافی کچھ معلومات یکجا کرنے آئے ہیں۔

کافی انتظار کے بعد ہمیں یہ سب دیکھنے کو ملا، آتش فشاں کا پھٹنا ہمارے لیے بے حد منفرد تجربہ ہے۔ ہم نے یہاں آتش فشاں کو پھٹتے دیکھا اور یہ نظارہ ہمارے لیے بے حد لاجواب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں