بین الاقوامی

خاتون کے اغواء اور قتل کا الزام، پولیس افسر کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

خاتون کے اغواء اور قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والی ایک برطانوی پولیس افسر کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کردیا گیا جبکہ ہزاروں افراد نے واقعے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

لندن میں اغواء اور قتل کی جانے والی لڑکی کی یاد منانے والی خواتین پر پولیس کی جانب سے کئے گئے کریک ڈاؤن کے بعد پولیس حکام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

احتجاج کے سلسلے میں جمع ہونے والی خواتین کو کورونا وائرس کے باعث پابندیوں کے باوجود جمع ہونے پر ان کے ساتھ پولیس نے انتہائی سخت رویہ اختیار کیا۔

خواتین مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے خواتین کے ساتھ زور زبردستی کی، جس پر مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، پولیس نے کئی خواتین کو حراست میں لے لیا۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر وزیرِ داخلہ پریتی پٹیل نے معاملے کی رپورٹ طلب کرلی جبکہ لندن کے میئر صادق خان نے بھی پولیس سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

یاد رہے کہ 33سالہ مارکیٹنگ منیجر سارہ 3 مارچ کو گھر لوٹتے ہوئے لاپتا ہوگئی تھی۔ 48سالہ برطانوی پولیس افسر وین کوزنز پر سارہ ایورارڈ کو اغوا اور قتل کرنے کا الزام ہے، سارہ کی گمشدگی کے الزام میں گرفتار پولیس افسر سے پوچھ گچھ بھی جاری ہے۔

ملزمہ ویسٹ مجسٹریٹس کورٹ میں پیشی ہوئی، جس کا ریمانڈ دے دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمہ کی معاونت کے الزام میں ایک عورت کو بھی حراست میں لیا گیا تھا جو اب ضمانت پر ہے۔

 

Related Articles

Back to top button