ترک مسجد آیا صوفیا میں 87 برس بعد شبِ معراج کی مناسبت سے محفل کا اہتمام

ترک مسجد آیا صوفیا میں 87 برس بعد شبِ معراج کی مناسبت سے محفل کا اہتمام

ترکی کی تاریخی مسجد آیا صوفیا میں 87 برس بعد شبِ معراج کی مناسبت سے محفل کا اہتمام کیا گیا۔

ملک بھر میں ماہِ رجب المرجب 1442 ہجری کی 27ویں شب بدھ کے روز مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔

اس سال استنبول کی تاریخی مسجد آیا صوفیا میں بھی شبِ معراج کے حوالے سے خصوصی محفل کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

آٹھ دہائیوں تقریباً 87 برس بعد شب معراج کے موقع پر مسجد میں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوئیں۔

ترک ادارہ برائے مذہبی امور کی جانب سے شب معراج کی مناسبت سے خصوصی تقاریب کا انعقاد بھی کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس عدالتی کے فیصلے کے بعد ترک صدر نے استنبول میں واقع مسجد آیا صوفیا کو آٹھ دہائیوں بعد باجماعت نماز کے لیے 24 جولائی سے کھولا گیا۔

گزشتہ برس 26 کو ترک صدر سمیت ہزاروں شہریوں نے اس مسجد میں نمازِ جمعہ باجماعت ادا کی تھی۔ ترک حکومت نے آیا صوفیا میں پنج وقتہ نمازوں کےلیے آئمہ اور مؤذن حضرات کا تقرر بھی کیا تھا۔

یاد رہے دس جولائی کو ترک عدالت نے آیا صوفیا میوزیم کو دوبارہ مسجد میں بدلنےکا فیصلہ سنایا تھا، عدالتی فیصلے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے آیا صوفیا کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کئے جس کے بعد آیا صوفیا کی میوزیم کی حیثیت ختم ہوگئی جبکہ اس کا کنٹرول ترکی کے محکمہ مذہبی امور نے سنبھال لیا تھا۔

خیال رہے آیا صوفیا کی تعمیر چھٹی صدی میں ہوئی اور تقریباً ایک ہزار سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا رہا، 1453 عیسویں میں قسطنطنیہ فتح کرنے کے بعدسلطان محمد فاتح نے اسے مسجد میں تبدل کر دیا تھا۔

عثمانی سلطنت کے زوال کےبعد 1935میں کمال اتاترک نے آیاصوفیا کو میوزیم بنا دیا تھا تاہم ترک عدالت نےآٹھ دہائیوں قبل ہوئے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں