بین الاقوامی

کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک اور بدتر وبا کے خدشات، عالمی ادارے نے خطرے کی کھنٹی بجا دی

وباؤں کی روک تھام کے لیے قائم ادارے کا کہنا ہے کہ اگلی آنے والی وبائیں کورونا وائرس سے کہیں زیادہ خطرناک اور بدتر ہوسکتی ہیں، عالمی سطح پر صحت کی حفاظت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہیئے۔

وبائی امراض کے ادارے کولیشن فار ایپی ڈیمک پریپیئرڈنس انوویشن کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں انقلاب کی مدد سے سائنس دانوں نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کی، اس عمل کو مزید تیز کرنا چاہیئے تاکہ اگلی وبا کے آنے تک ہم 100 روز میں ویکسین تیار کرنے کے قابل ہوں۔

مستقبل میں وباؤں سے نمٹنے کے لیے اس ادارے نے 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کی پانچ سالہ حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے بین الاقوامی ڈونرز سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگلی وبا کورونا وائرس کی وبا سے بھی بدتر ہو سکتی ہے۔

ادارے کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ ہیچٹ کا کہنا ہے کہ اب تک کرونا وائرس سے 25 لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، لیکن اگلی مرتبہ ہم اتنے خوش قسمت نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا 21 ویں صدی کی پہلی وبا نہیں، اگر ہم نے ابھی عمل نہیں کیا تو ہمیں اس بات کا یقین کر لینا چاہیئے کہ یہ آخری وبا نہیں ہوگی۔

رچرڈ کا کہنا تھا کہ حکومتوں، بین الاقوامی صحت کے اداروں اور دیگر شراکت داروں کو عالمی سطح پر صحت کی حفاظت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہیئے، اگر ایک پلیٹ فارم کے تحت 10 دنوں کے اندر ویکسین تیار ہوگی تو یہ ایک بہت بڑا کام ہوگا۔

Related Articles

Back to top button