نجی کمپنیوں کے ملازمین کے لئے سعودی حکام کا اہم اعلان جاری، جانیے تفصیلات

سعودی وزیر افرادی قوت و سماجی بہبود نے وژن 2030 کی روشنی میں لیبر مارکیٹ کی موثر حکمت عملی کیلئے قانون محنت میں مجوزہ ترامیم سے متعلق رائے طلب کرلی، جس کا مقصد نجی اداروں اور کمپنیوں کا فروغ ہے۔

سعودی وزیر افرادی قوت و سماجی بہبود احمد الراجحی نے وزارت کے اہداف حاصل کرنے، مزدوروں کو مثالی ماحول کی فراہمی کے لیے قانون محنت میں ترامیم کیلئے پیش کردہ آراء سے آگاہ کیا

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قانون میں ترامیم کےلیے پیش کردہ تجویز کے تحت حکام ایک ہفتے میں مزدوروں سے 40 گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کرواسکتے جبکہ ماہ رمضان المبارک میں مسلمان ملازمین کی ٹائمنگ میں تخفیف ہوگی۔

قانون میں ترامیم کےلیے پیش کردہ تجویز کے تحت خواتین ملازمین کو بچے کی پیدائش پر چودہ ہفتے کی پیڈ چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ آجر اور اجیر کی رضامندی سے اوورٹائم کے بجائے تنخواہ سمیت اضافہ تعطیلات بھی لی جاسکتی ہیں تاہم اگر سروس ختم ہورہی ہیں تو چھٹیاں نہ کرنے کو اوور ٹائم میں شمار کرکے اس کی ادائیگی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں