صدر ٹرمپ کے حامی مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا، دھاندلی کے الزامات

صدر ٹرمپ کے حامی مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا، دھاندلی کے الزامات

صدر ٹرمپ کے حامی مظاہرین نےکیپٹل ہل(پارلیمنٹ کی عمارت) پر اس وقت دھاوا بولا جب وہاں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جاری تھا۔اجلاس کا مقصد جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں فتح کی باقاعدہ تصدیق کرنا تھا۔ہنگامہ آرائی میں ایک خاتون ہلاک ہوئی اور متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

رکاوٹوں کو توڑنے پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز میں ہاتھاپائی بھی ہوئی۔ٹرمپ کے حامیوں کاموقف تھا کہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی سے جوبائیڈن کو جتوایا گیا۔ ہنگامہ آرائی کے وقت امریکی ایوان نمائندگان میں سیکیورٹی سخت اور امریکی نائب صدرمائیک پنس کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا۔

مظاہرین کو منتشر کرنےکے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور بعد ازاں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں12 گھنٹے کیلئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق کرفیو مقامی وقت کے مطابق شام6بجے سےصبح6بجے تک نافذ رہے گا۔ امریکی حکام نے مظاہرین کو6بجے سے پہلے واشنگٹن ڈی سی سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات تب ہوتے ہیں جب عوام کو انتخابات میں ان کے فتح سے دوررکھا جاتا ہے۔ عرصے سے محب وطن امریکیوں کی حق تلفی کی جارہی ہے۔

انہوں نے ٹویٹ کیا کہ مظاہرین پرامن طریقے سے گھر جائیں اور اس دن کو یاد رکھیں۔

امریکی صدر کی جانب سے اس قسم کے ٹویٹ آنے کے بعد ٹویٹر نے ٹرمپ کی ٹویٹ کو ہٹا دیا اور فیس بک نے بھی ٹرمپ کا اکاوَنٹ24گھنٹے کے لیے بلاک کر دیا ہے۔

فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے2مرتبہ فیس بک پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں