جارجیا میں پہلی مرتبہ سیاہ فام سینیٹر، ڈیموکریٹس کی سینیٹ میں اکثریت کا امکان

جارجیا میں پہلی مرتبہ سیاہ فام سینیٹر، ڈیموکریٹس کی سینیٹ میں اکثریت کا امکان

امریکی ریاست جارجیا میں سینیٹ کی دو نشستوں پر ہونے والے انتخاب میں ڈیموکریٹس کے رافیل وارنوک ریاستی تاریخ میں پہلے سیاہ فام سینیٹر بن گئے جس کے بعد سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کا امکان پیدا ہوگیا۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق اٹلانٹا چرچ میں 15 سال تک پادری کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والے رافیل وارنوک نے ری پبلکن اُمیدوار کیلی لیوئفلر کو شکست دے دی۔

جارجیا میں ڈیموکریٹس کی کامیابی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پارٹی کے لیے ایک دھچکا ہے جہاں ان کے حامیوں کاغلبہ رہا ہے اور اپنی آخری ریلی بھی جارجیا میں سینیٹ کے اُمیدواروں کیلی لیوئفلر اور ڈیوڈ پیرڈیو کے ساتھ نکالی تھی۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد اب نظریں دوسری نشست پر مرکوز ہوگئی ہیں کیونکہ مزید کامیابی کی صورت میں ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت حاصل ہوگی اور کانگریس میں نومنتخب صدر جوبائیڈن کا پلڑا بھاری ہوگا، جو 20 جنوری کو اپنا منصب سنبھال لیں گے۔

ماہرین، جارجیا میں حالیہ نتائج کو ریاست میں سیاسی تبدیل سے تعبیر کررہے ہیں کیونکہ ری پبلکن کو یہاں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک واضح کامیابی ملتی رہی ہے۔

اس سے قبل 3 نومبر کو ہوئے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹس کے جوبائیڈن نے بھی جارجیا میں کامیابی حاصل کی تھی جو 1992 کے بعد کسی ڈیموکریٹک اُمیدوار کی پہلی جیت ہے۔

سینیٹ کی نشست پر کامیاب ہونے والے رافیل وارنوک نے اپنے حامیوں کے لیے پیغام میں اپنے اور خاندان کے مالی حالات کا ذکر کیا اور بتایا کہ ان کی والدہ روئی چن کر اپنے بچوں کو پالتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج وہ روئی اٹھانے والے 82 سالہ ہاتھوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو امریکا سینیٹر بنایا کیونکہ یہ امریکا ہے، آج ہم نے اُمید کے ساتھ ثابت کردیا کہ سخت محنت اور ہمارے ساتھ موجود لوگوں کی مدد سے کچھ بھی ممکن ہے’۔

دوسری جانب ری پبلکن اُمیدوار لوئفلر نے اپنے کارکنوں کو پیغام میں شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

ریاست کے گورنر کی جانب سے سال بھر پہلے سینیٹ کے لیے نامزد 50 سالہ سابق کاروباری خاتون کیلی لیوئفلر نے کہا کہ ‘یہ چند انچز کا کھیل ہے، ہم اس انتخاب کو جیت رہے ہیں’۔

لوئفلر حتمی نتائج جاری ہونے تک بدستور سینیٹر رہیں گی جبکہ انہوں نے کہا کہ سینیٹرز کے ایک گروپ سے مل کر کانگریس میں جو بائیڈن کی جیت کو چیلنج کرنے واشنگٹن جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم آپ کے لیے یہ جنگ لڑنے جارہے ہیں، یہ امریکیوں کے خوابوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہے’۔

جارجیا کی دوسری نشست کے لیے ری پبلکن کے 71 سالہ ڈیوڈ پیرڈیو کا مقابلہ صحافی 33 سالہ اوسیف سے ہوگا، اوسیف جیت کی صورت میں سینیٹ کے کم عمر ترین رکن ہوں گے۔

امریکا میں دو مہینوں سے جاری انتخابی دنگل کا یہ آخری دور ہوگا جو جارجیا میں سینیٹ کی دونوں نشستوں کے اعلان کے ساتھ مکمل ہوگا۔

خیال رہے کہ جوبائیڈن نے جارجیا میں 16 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے تھے اور 50 لاکھ کی آبادی کی حامل ریاست میں تقریباً 12000ووٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی الیکٹورل کالج نے جو بائیڈن کو 2020 کے انتخابات میں فاتح قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تمام 538 رائے دہندگان نے 3 نومبر کو ہونے والے انتخاب میں ان کے ووٹروں کی جانب سے انہیں دیئے گئے مینڈیٹ کی پیروی کی، ڈیموکریٹک اُمیدوار جو بائیڈن کو 306 ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف ریپبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو 232 ووٹ ڈالے گئے۔

جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا ہیرس کی جانب سے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے سے قبل 6 جنوری کو کانگریس کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں انتخابی ووٹوں کی سیل اتاری جائے گی۔

ڈیمو کریٹس کے اُمیدوار جو بائیڈن کو مقبول ووٹوں میں بھی 70 لاکھ کی برتری حاصل ہے لیکن امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ سمجھنے سے انکاری ہیں کہ وہ کیسے ایسا انتخاب ہار گئے جس میں انہیں جو بائیڈن کے علاوہ کسی بھی صدارتی اُمیدوار سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔

پہلے سے ایوان نمائندگان پر قابض ڈیموکریٹس سینیٹ میں بھی جیت جاتے ہیں تو بائیڈن وہ کام کرسکتے ہیں جس کا انہوں نے عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ ایک آزادانہ جمہوریت کے طور پر امریکا کے تشخص کو بحال کریں گے جس کو ٹرمپ کے چار سالوں کے دوران بہت نقصان پہنچا ہے۔

یہ بات حیران کن نہیں کہ ٹرمپ اور بائیڈن دونوں پیر کے روز جارجیا میں موجود تھے، بائیڈن نے سینیٹ انتخابات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے رائے دہندگان کو بتایا کہ اگر وہ ڈیموکریٹس کو منتخب کرتے ہیں تو وہ اس بھیڑ کو توڑ دیں گے جس نے 2016 میں ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے واشنگٹن اور اس قوم کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔

ٹرمپ نے بھی سینیٹ انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے رائے دہندگان کو ریپبلکنز کو منتخب کرنے پر زور دیا لیکن ان کی توجہ بدھ کے مشترکہ کانگریس اجلاس پر تھی جو انتخابی ووٹوں کی توثیق کے لیے ملاقات کرے گا۔

اگر سیشن جو بائیڈن کے ووٹ کی توثیق کرتا ہے تو اس سے ٹرمپ کی صدارت برقرار رکھنے کی کوششوں کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن جو بائیڈن کو روکنے کے لیے ٹرمپ قانونی چارہ جوئی سے لے کر انتظامی چالوں سمیت متعدد محاذوں پر کام کر رہے ہیں۔

ٹرمپ اور ان کی مہم پہلے ہی ریاستی اور وفاقی عدالتوں کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ میں بھی 60 کے قریب مقدمات دائر کرچکے ہیں، تاہم ان میں سے زیادہ تر قانونی چارہ جوئی کو مسترد کردیا گیا ہے اور اب قانونی جنگ جیتنے کی امید بہت کم ہے۔

چنانچہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے جارجیا کی طرح ریپبلکن ریاستوں کے عہدیداروں پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے جہاں بائیڈن نے بہت کم مارجن سے فتح حاصل کی۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کو ٹیلیفون کیا جس کا نتیجہ طے کرنے میں فیصلہ کن کردار ہے، ٹرمپ اور ان کے قانونی معاونین نے سیکریٹری خارجہ بریڈ رافنسپرجر پر زور دیا کہ وہ ان 11 ہزار 500 ووٹوں کو منسوخ کر دیں جس کی بدولت بائیڈن نے مذکورہ اسٹیٹ میں فتح حاصل کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں