مجھے 11ہزار 780 ووٹ درکار ہیں، ٹرمپ کی حکام پر دباؤ کی مبینہ آڈیو وائرل

مجھے 11ہزار 780 ووٹ درکار ہیں، ٹرمپ کی حکام پر دباؤ کی مبینہ آڈیو وائرل

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ریاست جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کو ایک گھنٹے طویل ٹیلی فون پر صدارتی انتخاب میں شکست کو فتح میں بدلنے کے لیے ووٹ تلاش کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی آڈیو سامنے آگئی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ جارجیا کے ری پبلکن سیکریٹری آف اسٹیٹ براڈ رافینسپرجر پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ شکست کو تبدیل کرنے کے لیے ووٹ تلاش کریں، جس کو ماہرین قانون اختیارات کا ناجائز استعمال اور مجرمانہ فعل قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ایک گھنٹے غیر معمولی ٹیلی فون کال پر براڈ رافینسپرجر پر مجبور کر رہے ہیں اور دھمکا رہے ہیں کہ جس طرح وہ کہہ رہے ہیں اس پر عمل کریں ورنہ اس کے نتائج برے ہوں گے اور ان کے لیے ایک بڑا خطرہ ہوگا۔

دوسری جانب سے ٹرمپ کے مطالبے کو جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ اور ان کے دفتر کے جنرل قونصل مسلسل مسترد کر رہے ہیں اور سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صدر سازشی باتوں پر تکیہ کر رہے ہیں اور جارجیا میں جوبائیڈن کی 11 ہزار 779 ووٹ سے فتح شفاف تھی۔

ٹرمپ نے دونوں عہدیداروں کی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ‘جارجیا اور ملک کے عوام غصے میں ہیں اور اس میں کوئی ہرج نہیں ہے کہ آپ دوبارہ گنتی کا مطالبہ کریں’۔

براڈ رافینسپرجر نے ٹرمپ کو جواب دیا کہ ‘میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں کہ آپ کے پاس موجود اعداد و شمار غلط ہیں’۔

امریکی صدر نے فون کے دوران کہتےہیں کہ ‘میں صرف 11 ہزار 780 ووٹ حاصل کرنا چاہتا ہوں اور یہ ووٹ جو ہمارے پاس ہیں اسے ایک ووٹ زیادہ ہے کیونکہ ہم نے ریاست میں کامیابی حاصل کی تھی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس وقت مجھے صرف 11 ہزار ووٹ کی ضرورت ہے اور مجھے یہ دلا دو’۔

صدارتی انتخاب میں شکست کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے ماننے سے انکار کیا تھا اور اب آڈیو سامنے آنے کے بعد ان کے مؤقف کی مزید وضاحت ہو رہی ہے اور وہ شکست ماننے سے انکاری نظر آتے ہیں۔

طویل فون کے دوران ٹرمپ کو بارہا یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ‘جارجیا میں میری شکست کی کوئی وجہ نہیں، کوئی وجہ نہیں، ہم نے سیکڑوں اور ہزاروں ووٹ سے کامیابی حاصل کی تھی’۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جب جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ پر دباؤ ڈال رہے تھے اس وقت وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مارک میڈووز اور وکیل سلیٹا مچل سمیت دیگر اتحادی بھی آن لائن تھے۔

سلیٹا مچل نے اپنے بیان میں کہا کہ براڈ رافینسپرجر کے دفتر سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران کئی بیانات سامنے آئے ہیں جو درست نہیں ہیں اور صدر سے منسلک تمام افراد کا ان سے اصرار ہے کہ وہ ریکارڈ دکھائیں جس کی بنیاد پر وہ ہمارے اعداد وشمار کو غلط کہہ رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس، ٹرمپ کی انتخابی مہم اور مارک میڈووز نے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ میں نے براڈ رافینسپرجر سے بات کی تھی لیکن ان کے پاس ‘بیلٹ انڈر ٹیبل اسکینڈل’، بیلٹ کو خراب کرنے، بیرون ریاست ووٹ، انتقال کرجانے والے افراد کے ووٹ اور دیگر سوالوں کے جواب نہیں تھا یا وہ جواب دینے کو تیار نہیں تھے’۔

براڈ رافینسپرجر نے ٹوئٹ کے جواب میں کہا کہ ‘جناب صدر جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں ہے’۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ کے اس دباؤ پر کی تفتیش کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اورجارجیا میں نومنتخب نائب صدر کمالا ہیرس کی مہم نے مطالبہ کیا کہ یہ اختیارات کا بے دریغ استعمال ہے۔

جوبائیڈن کی مہم کے سرکردہ وکیل باب باوئر نے بیان میں کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے نامناسب بیان سے امریکی جمہوریت کی توہین ہوئی ہے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ کی آڈیو کے بعد مذمتی بیانات اور تفتیش کے مطالبات سامنے آرہے ہیں جبکہ ری پبلکن کی اکثریت خاموش ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی الیکٹورل کالج نے جو بائیڈن کو 2020 کے انتخابات میں فاتح قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تمام 538 رائے دہندگان نے 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ان کے ووٹروں کی جانب سے انہیں دیئے گئے مینڈیٹ کی پیروی کی، ڈیموکریٹک اُمیدوار جو بائیڈن کو 306 ووٹ ملے جبکہ ان کے حریف ریپبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو 232 ووٹ ڈالے گئے۔

جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا ہیرس کی جانب سے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے سے قبل 6 جنوری کو کانگریس کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں انتخابی ووٹوں کی سیل اتاری جائے گی۔

جو بائیڈن جنہیں انتخاب کے روز رات کو اپنی قوم کو فاتح کی حیثیت سے خطاب کرنا تھا، نے الیکٹورل کالج میں اپنی فتح کی تصدیق کے چند منٹ بعد ہی تقریر کی اور اپنے حریف پر زور دیا کہ وہ ‘جمہوریت پر بے مثال حملے’ کو ختم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا میں سیاستدان اقتدار میں نہیں آتے بلکہ عوام انہیں اقتدار میں لاتے ہیں، جمہوریت کی شمع اس قوم میں بہت عرصے پہلے جل چکی تھی اور اب کچھ نہیں ہوسکتا، نہ ہی وبا اور نہ ہی اختیارات کا ناجائز استعمال اس شمع کو بجھا سکتا ہے’۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ اپنے اٹارنی جنرل بل بار کو برطرف کر رہے ہیں جنہوں نے 2020 کے انتخاب میں بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ان کے دعوؤں کی توثیق نہیں کی تھی۔

صدر نے اپنے آفیشل ٹوئٹر پیج پر بل بار کے استعفے کی ایک کاپی پوسٹ کی اور لکھا کہ ‘خط کے مطابق کرسمس سے قبل بل بار اپنے اہلخانہ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لیے روانہ ہو جائیں گے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ڈپٹی اٹارنی جنرل جیف روزن، ایک ممتاز شخصیت، قائم مقام اٹارنی جنرل بن جائیں گے اور انتہائی قابل احترام رچرڈ ڈونوگو ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں