القاعدہ کا اہم رہنما افغانستان میں انتقال

القاعدہ کے رہنما ڈاکٹر ایمن الظواہری کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کا انتقال افغانستان میں ہوا ہے۔

عرب ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کا انتقال ایک ماہ قبل ہوا ہے۔

مؤقر خلیجی اخبارعرب نیوز نے دو مسلمان ممالک کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا انتقال طبعی طور پر ہوا ہے۔

عرب ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ القاعدہ سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک مترجم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا انتقال گزشتہ ہفتے افغانستان کے صوبے غزنی میں ہوا ہے۔ ان کے انتقال کے حوالے سے اس کا کہنا ہے کہ وہ سانس کی بیماری میں مبتلا تھے اور وہ اس کا علاج بھی نہیں کرا رہے تھے۔

عرب نیوز کے مطابق چار سیکیورٹی اہلکاروں نے جن کا تعلق دو اسلامی ممالک سے ہے، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 69 سالہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ مصری شہری ڈاکٹر ایمن الظواہری کے متعلق ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

القاعدہ کے رہنما ڈاکٹر ایمن الظواہری 19 جون 1951 کو مصر میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈاکٹر ایمن الظواہری نے 2011 میں اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ نیٹ ورک کی کمان سنبھالی تھی۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے ایک قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری رواں ماہ ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے جنازے میں ایک محدود تعداد میں ان کے ساتھیوں نے شرکت کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں