جو بائیڈن کے لیے اہم چیلنجز

یہ اتفاق اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے کہ جس دن امریکا میں لوگ اپنے ووٹ کی طاقت سے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو رد کررہے تھے، ٹھیک اس کے اگلے روز یعنی 4 نومبر کو امریکا باضابطہ طور پر ’پیرس معاہدے‘ جیسے اہم ترین معاہدے سے دستبردار ہوا اور یوں امریکا کا دنیا بھر میں جو منفی تاثر…

امریکا کے 45ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ تاریخ میں ایک ایسے صدر کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے 21ویں صدی کے سب سے بڑے چیلنج یعنی موسمیاتی تبدیلیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تمام عالمی معاہدوں اور پابندیوں سے اپنے ملک کو آزاد کرلیا تھا۔

ان معاہدوں میں سب سے اہم ’پیرس معاہدہ‘ تھا جس سے نکلنے کے لیے انہوں نے اقوام متحدہ سے 2019ء میں درخواست کی تھی جسے ایک سال بعد منظور کرلیا گیا اور یہ وہ دن تھا جس سے ایک دن پہلے امریکیوں نے ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کو مسترد کردیا تھا۔

نئے متوقع صدر جو بائیڈن پچھلے 50 برسوں سے کسی نہ کسی طور پر امریکی سیاست میں سرگرم رہے اور بلآخر 2020ء کا سال ان کے لیے خوش بختی کا پیغام لایا اور اقتدار کا ہما ان کے سرپر بیٹھ گیا۔

ان کی صدارتی مہم کا ایک اہم حصہ ماحولیاتی بہتری کے وعدوں پر مشتمل تھا۔ جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ صدر منتخب ہوکر امریکا کو دوبارہ پیرس معاہدے کا حصہ بنائیں گے۔ لیکن اس شعبے سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ جو بائیڈن کے لیے امریکا کی پیرس معاہدے میں شمولیت سے بھی زیادہ مشکل اس پر عمل درآمد ہوگا جس کے لیے انہیں صنعتی شعبے سے شدید مزاحمت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پیرس معاہدہ کیا ہے؟

دنیا بھر میں تحفظ ماحول کے حوالے سے 1950ء کی دہائی میں بحث و مباحث اور کام کا آغاز ہوچکا تھا۔ بے مہار ترقی کے اثرات موسمیاتی تبدیلیوں کی صورت میں ظاہر ہونے لگے تھے اور دنیا بھر میں بے چینی بڑھنے لگی تھی۔ اس حوالے سے پہلی بار اقوامِ متحدہ نے ایک بڑا قدم اٹھایا اور 1995ء میں یونائیٹڈ نیشن فریم ورک کنوینشن آن کلائمیٹ چینج (UNFCCC) کے نام سے ایک عالمی ادارہ قائم کیا جس کے تحت ماحول اور پائیدار ترقی کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کی مختلف کاوشوں کا آغاز ہوا۔ ان میں سب سے اہم کانفرنس آف پارٹیز کا انعقاد تھا۔ یہ عالمی سطح پر سربراہانِ مملکت کی یکجائی (کانفرنس آف پارٹیز) تھی جو ہر سال مختلف ممالک میں منعقد ہوتی ہے۔

تحفظِ ماحول کے اس سفر میں 2015ء کو سنگِ میل قرار دیا جاسکتا ہے جب پیرس میں منعقد 21ویں کانفرنس آف پارٹیز (COP21) میں دنیا ایک منفرد اور مضبوط معاہدے پر متفق ہوئی جسے ’پیرس معاہدے‘ کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے پر بشمول پاکستان دنیا کے تقریباً 184 ممالک نے دستخط کیے تھے۔

پیرس معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ تمام ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کاربن کے اخراج میں کمی کریں گے اور درجہ حرارت کی سطح 2 ڈگری کم کرتے ہوئے اسے صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرارت سے ہم آہنگ کریں گے۔ معاہدے کے مطابق تمام ممالک اپنے معدنی ایندھن یعنی گیس، کوئلے اور تیل وغیرہ کا استعمال کم سے کم کریں گے جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی ایک بڑی وجہ ہے، ساتھ ہی چھوٹے اور ماحولیاتی طور پر خطرات سے دوچار ممالک کے لیے ایک گرین فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔

موسم کے تحفظ کے لیے لوگ احتجاج کرتے ہوئے

لیکن افسوس کی بات یہ رہی کہ وہ تمام امیر ممالک جو عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمے دار تھے اس معاہدے کو من و عن تسلیم کرنے میں تذبذب کا شکار تھے اور اس حوالے سے مختلف بہانے بازیاں جاری ہیں، لیکن اس معاہدے سے امریکا کا یوں علی الاعلان دستبردار ہونا پوری دنیا کے لیے ایک منفی پیغام تھا۔

صدر ٹرمپ موسمیاتی تبدیلیوں سے یکسر انکاری تھے اور اس کی وجہ شاید ری پبلکن پارٹی کی حمایتی وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں تھیں جو گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں شریک ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ماحولیاتی تبدیلیوں سے انکار گویا سائنس سے انکار سمجھا گیا۔

تحفظِ ماحول کے معاہدے اور جو بائیڈن کی مشکلات

ماہرین کا خیال ہے کہ جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا ہیرس نے اپنی ماحول دوست انتخابی مہم سے لوگوں کو متاثر تو کرلیا ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ماحولیاتی مہم کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اسے ازسرِ نو درست کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ جنوری میں جب وہ کام کا آغاز کریں گے اور اپنی حکمتِ عملی کے تحت معدنی ایندھن کی کمی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا چاہیں گے تو انہیں ری پبلیکن اکثریت والی سینیٹ کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

امریکا کے ماحول دوست حلقوں کا خیال ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس اور حتمی فیصلے ہی صحیح سمت کا تعین کریں گے اور دنیا امریکا پر یقین کرسکے گی۔ اس ضمن میں بائیڈن کو 2050ء تک ’نیٹ زیرو ایمیشن‘ کی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ اس کے علاوہ انہیں امریکا کی پالیسیوں میں سائنس کے کردار کو مستحکم کرنا ہوگا جسے ٹرمپ نے اپنی غیر سنجیدگی سے بہت نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان میں بھی ہر حلقہِ فکر میں جو بائیڈن کے انتخاب پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ وزیرِاعظم پاکستان کے مشیرِ خاص برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ ’جو بائیڈن کا امریکی صدر منتخب ہونا ایک مثبت تبدیلی ہے۔ جو بائیڈن دوبارہ پیرس معاہدے کا حصہ بنیں گے جو بہت خوش آئند ہے اور اس سے دنیا بھر میں ایک مثبت پیغام جائے گا۔ ماحولیاتی منظرنامے میں امریکا کا ایک کلیدی کردار ہے اور اس حوالے سے عالمی پیش رفت کو ایک صحیح سمت مل سکے گی‘۔

جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا ہیرس کو ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں سے پیچھے ہٹنا مشکل ثابت ہوسکتا ہے

ان کا کہنا ہے کہ ’ڈونالڈ ٹرمپ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف تھے، گویا وہ سائنس ہی کو نہیں مانتے تھے، ایسے میں وائٹ ہاؤس میں ایک ایسے شخص کا آنا ایک خوش آئند علامت ہے، جو ناصرف موسمیاتی تبدیلیوں کو مانتا ہے بلکہ اس حوالے سے اپنا مثبت کردار بھی ادا کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے ایک تھنک ٹینک، سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (SDPI) کے سربراہ ڈاکٹر عابد سلہری بھی امریکا میں صدر کی تبدیلی خصوصاً جو بائیڈن کے منتخب ہونے کو مثبت تبدیلی مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’امریکا کا پیرس معاہدے سے نکلنا تحفظِ ماحول کی پوری مہم کے لیے ایک جھٹکا ثابت ہوا تھا۔ جو بائیڈن کی انتخابی مہم کا مرکزی نقطہ یہی تھا کہ امریکا اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہوگا اور کاربن کی کمی پر کام کرتے ہوئے کلین اینڈ گرین گروتھ کو جاری رکھا جائے گا‘۔

عابد سلہری کا کہنا ہے کہ ’امریکا ایک بڑی معیشت ہے جو اپنے ماحول دوست اقدامات سے دنیا بھر کے لیے مثال بن سکتا ہے۔ امریکا جیسے ملک میں اگر صاف توانائی (شمسی، آبی اور ہوا) کی ٹیکنالوجی عام ہوگئی تو یقیناً یہ ٹیکنالوجی پاکستان جیسے چھوٹے ملک تک بھی پہنچ جائے گی کیونکہ بڑے پیمانے پر پیداوار سے قیمتیں یقیناً کم ہوجاتی ہیں‘۔

کنگز کالج لندن سے وابستہ ماہرِ ماحولیات دانش مصطفیٰ کے مطابق ’جو بائیڈن کا صدر منتخب ہونا صرف امریکا ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خوشی کی خبر ہے۔ امریکا کی پیرس معاہدے میں واپسی یقیناً خوش آئند ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار کی خبر ماحول اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ساتھ جامعات، سائنسی اور تحقیقی اداروں کے لیے بھی اتنی ہی خوش کن ہے کیونکہ ٹرمپ نے اس حوالے سے بھی ہر قسم کی فنڈنگ روک دی تھی‘۔

زرعی ماہر اور پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے سربراہ ڈاکٹر پرویز امیر نے بھی دانش مصطفٰی کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ کے 4 سالہ دور میں اصل بحران عقلی اور شعوری سطح پر ہوا۔ وہ ناصرف سائنس کے منکر تھے بلکہ انہوں نے سائنسی تحقیق کے لیے تعلیمی اداروں کو دی جانے والی امداد بھی بند کردی تھی، حتیٰ کہ ناسا کے فنڈ بھی روک دیے گئے تھے‘۔

موسمیاتی تبدیلیاں اور دنیا کا رویہ

صرف امریکا ہی نہیں بلکہ تمام ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے انکاری ہیں اور اگر تسلیم بھی کرتے ہیں تو اس کی روک تھام کے لیے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) سے منسلک سیکڑوں اداروں اور ان سے وابستہ ہزاروں سائنس دانوں اور ماہرین کی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے تیار کردہ 2018ء کی رپورٹ کے مطابق گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے زمین کی حدت بڑھ رہی ہے اور اگر کرہِ ارض کا درجہ حرارت اوسطاً ڈیڑھ درجے سینٹی گریڈ بھی بڑھ جاتا ہے تو زمین پر حیات کے لیے سانس لینا مشکل تر ہوجائے گا۔

سائنس دانوں کا واضح مؤقف ہے کہ دنیا جس طرح فطرت کی مخالف سمت بڑھ رہی ہے تو ممکن ہے کہ اس صدی کے آخر تک زمین کا درجہ حرارت 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے اور زمین پر حیات کی کوئی بھی شکل ممکن نہ رہے۔

درجہ حرارت میں کمی کے لیے کاربن کے اخراج میں کٹوتی کسی ترقی یافتہ ملک کو برداشت نہیں ہے کیونکہ اس کا مطلب معدنی ایندھن میں کمی اور معیشت کے پہیے کو لگام دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا، روس، سعودی عرب اور کویت نے تو یکسر اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا اور دیگر ممالک بھی اسے ماننے میں حیل و حجت کرتے رہے۔

امریکا پہلے ہی پیرس معاہدے سے باہر نکلنے کی درخواست دے چکا تھا۔ اس رپورٹ کے حوالے سے برازیل کے نو منتخب وزیرِاعظم ٹرمپ سے بھی دو قدم آگے بڑھ گئے، اور ان کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ چینج کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ مارکسسٹوں کا ایک ٹولہ ہے جو دنیا کو گمراہ کررہا ہے۔

ان امیر اور ترقی یافتہ ممالک کی بے مہار صنعتی ترقی اور بے دریغ معدنی ایندھن کا استعمال چھوٹے ممالک کے لیے شدید خطرات کا سبب بن چکا ہے۔ یہ امیر ممالک اپنی مستحکم معیشت کے سبب ہر قسم کے خطرات سے نمٹ لیتے ہیں لیکن کمزور معیشت کے حامل ممالک کو تو گویا اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہے۔

پاکستان گرین ہاؤس گیس پیدا کرنے والے ممالک میں بہت نیچے 135ویں نمبر پر آتا ہے مگر موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کا شکار ممالک میں ہمارا پانچواں نمبر ہے۔ پیرس معاہدے کا ایک اہم مقصد ایسے چھوٹے ممالک کے تحفظ کے لیے فنڈ کا قیام بھی تھا۔ اس حوالے سے 2020ء کا سال بہت اہم تھا۔ اس سال کی کانفرنس میں اہم فیصلے کیے جانے تھے مگر افسوس کورونا وائرس کے باعث اس سال کانفرنس آف پارٹیز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکے گا۔

اس حوالے سے SDPI کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ ’2020ء کا سال بلاشبہ حتمی فیصلوں کا سال تھا اور کئی کلیدی فیصلے متوقع تھے لیکن افسوس کورونا وائرس کے باعث یہ ممکن نہیں ہوسکے گا۔ اگلا سال یقیناً اس حوالے سے بہتر ہوگا کہ کانفرنس میں امریکا بھی جو بائیڈن کی صورت مذاکرات کی حامی لابی میں موجود ہوگا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں