ایمی کونی بیرٹ نے امریکی سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

ایمی کونی بیرٹ نے امریکی سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سپریم کورٹ کی جج کے لیے نامزد کردہ ایمی کونی بیٹ نے حلف اٹھا لیا ہے۔

صدارتی انتخاب سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور کامیابی مل گئی، امریکی سینیٹ نے ایمی کونی بیرٹ کی نامزدگی کی توثیق کر دی جس کے بعد انہوں بطور سپریم کورٹ جج حلف اٹھا لیا ہے۔

سینیٹ میں ووٹنگ کے دوران ایمی کونی بیرٹ کے حق میں باون اور مخالفت میں اڑتالیس ووٹ آئے۔ ریپبلکن پارٹی کی ریب سوزن کولنز نے اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دیا۔

ایمی کونی بیریٹ کی تقریب حلف برداری وائٹ ہاوس میں ہوئی۔اس موقع پر ایمی کونی بیریٹ کا کہنا تھا کہ اپنی ذمہ داریاں بغیر کسی خوف کے ادا کروں گی۔

48 سالہ جج ایمی کونی بیرٹ، فیڈرل ایپیلٹ کورٹ کی جج تھیں اور انہیں صدر ڈنلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی خالی نشست پر تعیناتی کے لیے نامزد کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایمی کونی بیریٹ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ صدر ٹرمپ بغیر ماسک کے تقریب میں شریک ہوئے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہل خانہ نے وارننگ ملنے کے بعد ماسک پہنا تھا۔

امریکی صدر کے اہلخانہ نے پہلی صدارتی بحث میں بغیر ماسک کے شرکت کی تھی جس کی وجہ سے ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

انتظامیہ کی جانب سے واننگ دی گئی تھی کہ اگر صدارتی مباحثے میں شریک افراد نے ماسک نہ پہنا تو انہیں باہر نکال دیا جائے گا۔

بولمانٹ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے مباحثے میں صدر ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، بچوں ایونکا ٹرمپ، ٹیفنی اینڈ ہیری ٹرمپ نے ماسک پہن کر شرکت کی۔

انتظامیہ کی جانب سے مباحثے میں شرکت کے لیے ماسک کو لازمی قرار دیا گیا تھا اور ہدایت جاری کی گئی تھی کہ ماسک نہ پہننے والوں کو مباحثے سے نکال دیا جائے گا۔

ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ ماسک پہننے پر اپنے حریف جو بائیڈن کو طنز کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور انہوں نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر ماسک کو لازمی قرار دینے سے بھی انکار کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں