تارکین وطن کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا فیصلہ, کویت حکام نے فیصلہ سنا دیا

کویت نے آئندہ 5 سال کے اندر 70 فی صد تارکین وطن کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

کویت نے تارکین وطن کے حوالے سے ایک نیا منصوبہ بنا لیا ہے جس کے تحت پانچ سال کے اندر ستر فی صد غیر ملکیوں کو ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا۔

یہ فیصلہ کویت میں آبادیاتی عدم توازن کے ٹھوس حل کے لیے کیا گیا ہے، اس سلسلے میں کویتی قومی اسمبلی کو حکومتی ارادے کی یقین دہانی بھی حاصل ہو گئی ہے۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ ستر فی صد تارکین وطن کی ملک بدری کے لیے ڈیموگرافک قانون کے آرٹیکل 5 کو ختم کیا جائے گا، اس میں ایسی شقیں شامل ہیں جن کے تحت مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد تارکین وطن کو استثنیٰ حاصل ہے۔

قانون کے تحت جن تارکین وطن کو استثنیٰ حاصل ہے ان میں گھریلو ملازمین سمیت طبی اور تعلیمی شعبہ جات کی ملازمتیں شامل ہیں۔

اس منصوبے کے اگلے مرحلے پر کارکنوں کی اسمارٹ بھرتیوں کی اہمیت کو بھی واضح کیا گیا ہے، تاہم اس سے قبل غیر ہنر مند اور ناخواندہ کارکنوں کو ملک بدر کیا جائے گا جب کہ 1 لاکھ 60 ہزار نئی اسمارٹ بھرتیاں کی جائیں گی۔

اس سلسلے میں ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کمیٹی نے قانون میں ترمیم کے مسودے اور اس کے حوالے سے قومی اسمبلی کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس بھی منعقد کیا، مسودے کے مطابق حکومت قومی اسمبلی میں سالانہ رپورٹ پیش کرنے کی پابند رہے گی، یہ مسودہ فی الوقت قانون ساز کمیٹی کے پاس ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین خلیل الصالح کا کہنا تھا کہ اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کویت میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایک حد مقرر کرنے کا طریقہ کار وضع کرے، کرونا کی وبا نے کویت میں آبادیاتی امور کے مسئلے کو اجاگر کیا، نئی قانون سازی کا مقصد بھی یہ ہے کہ آئندہ ایسے مسائل پیدا نہ ہوں، انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس قانون کے متعدد فوائد ہیں جن میں غیر ملکی ملازمین کو کنٹرول کرنا سرفہرست ہے۔

انھوں نے کہا یہ قانون کویت میں غیر ملکی کارکنوں کی کارکردگی کی ضمانت فراہم کرے گا، سیکورٹی کی صورت حال بہتر بنائے گا، کارکنوں کی وجہ سے پیش آنے والی پریشانیوں کو کم کرے گا، اور خود کشیوں، قتل اور دھوکا دہی کے واقعات میں کمی آئے گی۔

الصالح کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ اس قانون کا نفاذ حقیقی طور پر کیا جائے گا اور بات صرف کاغذات تک محدود نہیں رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں