بانی ایم کیو ایم سے منسلک 6 جائیدادیں منجمد، برطانوی ہائی کورٹ کا حکمنامہ جاری

برطانوی ہائی کورٹ نے بانی ایم کیو ایم سے منسلک 6 جائیدادیں منجمد کرنے کا حکم دے دیا ، جائیدادوں میں بانی ایم کیو ایم کی رہائش گاہ اورایم کیوایم سیکریٹریٹ بھی شامل ہیں۔

برطانوی ہائی کورٹ نے بانی ایم کیو ایم سے منسلک 6 جائیدادیں منجمد کرنے کا حکم جاری کردیا ، منجمدکی گئیں جائیدادوں میں بانی ایم کیو ایم کی رہائش گاہ اورایم کیوایم سیکریٹریٹ بھی شامل ہیں۔

ڈپٹی ہائی کورٹ پیٹرناکس نے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا، منجمد کی گئی پراپرٹیز میں ہائی ویو گارڈنز فرسٹ ہاؤس، وائٹ چرچ لین فرسٹ ہاؤس، ایبے ویو ہاؤس ، بروک فیلڈ ایونیو ہاؤس، ہائی ویوگارڈنز سیکنڈ ہاؤس، وائٹ چرچ لین سیکنڈ ہاؤس اور ایم کیو ایم کا فرسٹ فلور الزبتھ ہاؤس دفتر شامل ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق ان جائیدادوں کی خریدو فروخت نہیں ہوسکے گی تاہم مذکورہ جائیدادیں بانی ایم کیوایم اوردیگر کے تصرف میں ہی رہیں گی، مذکورہ 6 جائیدادوں کی قیمت تقریباً15 ملین پاؤنڈ ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان نے لندن ہائی کورٹ میں ایک لا فرم کے ذریعے مجموعی طور پر 7 جائیدادوں کی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا ، یہ دعویٰ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ممبر قومی اسمبلی امین الحق نے کیا تھا، کیس میں طارق میر، محمد انور، افتخار حسین، قاسم رضا، یورو پراپرٹی ڈویلپمنٹ کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

جن پراپرٹیز کے متعلق دعویٰ دائر کیا گیا تھا ان میں بانی متحدہ کی رہائش گاہ بھی شامل ہے، وکلا نے کہا تھا برطانوی ٹرسٹ قوانین کے تحت ایم کیو ایم پاکستان جائیدادوں کی قانونی ملکیت کی حق دار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں