عدالت میں وکیل کے دلائل مسترد، خاتون مؤکلہ کو دولاکھ درہم کا معاوضہ دینا پڑگیا

وکیل کو اپنی غلطی کی وجہ سے خاتون مؤکلہ کو دولاکھ درہم کا معاوضہ دینا پڑگیا، عدالت نے وکیل کے دلائل مسترد کرتے ہوئے فیس کی آخری قسط سے بھی محروم کردیا۔

متحدہ عرب امارات میں ابوظبی کی ایک اعلی عدالت نے سماعت کی تاریخ پر پیش نہ ہونے پر وکیل سے خاتون مؤکلہ کو دو لاکھ درہم کا معاوضہ دلادیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت نے ایک اور فیصلہ خاتون کے حق میں یہ بھی کیا کہ وکیل کو فیس کی آخری قسط سے بھی محروم کردیا،وکیل نے اس حوالے سے جو اعتراضات پیش کیے تھے عدالت نے انہیں سختی سے مسترد کردیا۔

ابوظبی کی پرائمری کورٹ نے خاتون مؤکلہ کے حق میں فیصلہ دیا تھا, جس کی توثیق ایپلٹ کورٹ نے بھی کردی تھی۔ خاتون کا دعویٰ تھا کہ وکیل کی جانب سے کی گئی غلطی اور دعوے کو صحیح طریقے سے فائل کرنے میں کوتاہی کے باعث اسے بھاری مالی نقصان اور ذہنی اذیت پہنچی ہے لہٰذا اسے وکیل سے دو لاکھ درہم کا معاوضہ دلوایا جائے۔

وکیل نے پہلے پرائمری کورٹ اور اس کے بعد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔ اعلٰی عدالت نے بھی اس کا دعوی مسترد کردیا اور اپنے فیصلے میں یہ بات واضح کردی کہ پرائمری کورٹ نے متاثرہ خاتون کے لیے نقصانات کا جو تخمینہ مقرر کیا ہے، انہیں اس سے اتفاق ہے۔

اعلٰی عدالت نے کہا کہ پرائمری کورٹ کا یہ صوابدیدی اختیار تھا جس کے استعمال میں اس نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں