امام حسینؑ کا چہلم حقیقت میں کربلا کی ابدی فتح کا اعلان ہے

امام حسین علیہ السلام کا چہلم حقیقت میں کربلا کی ابدی فتح کا اعلان ہے۔

یزید کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کربلا کے جس لٹے پٹے کارواں کو وہ بازاروں اور درباروں میں پھرا رہے ہیں، وہی کاروان یزید اور یزیدیت کو عبرتناک شکست دے گا۔

چہلم امام حسین علیہ السلام کے دن زیارت اربعین پڑھنے کی بہت زیادہ فضلیت بیان کی گئی ہے، یہاں تک کہ اسے مومن کی علامتوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ اس زیارت کے آخر میں آیا ہے، پس ہم آپکے ساتھ ہیں اور آپکے ساتھ ہیں، آپکے دشمن کے ساتھ نہیں ہیں۔

یہ وہ جملے ہیں جو نواسہ رسول امام حسینؑ سے محبت کرنے والا اور آپکی لازوال تحریک کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھنے والا ہر شخص اپنی زبان پر لانا سعادت سمجھتا ہے۔

بہتر جانثاروں نے سید الشہداء کی رہبری میں ایسی جنگ لڑی کہ آج دنیا کا ہر حریت پسند معکم معکم کی صدائیں بلند کرتا ہے۔

کربلا کے لق و دق صحرا میں شہید ہونیوالے نواسہ رسولؑ نے ایسا معرکہ لڑا کہ آج تقریباَ چودہ سو سال کے بعد انسانیت اس معرکے کو اپنے لیے نصب العین قرار دیتی ہے۔

رجب 60 ہجری میں میرے جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا” کے سلوگن سے مدینہ رسول سے چلنے والی تحریک خانہ خدا سے ہوتی ہوئی کربلا تک پہنچی۔

اہل باطل نے اس تحریک کے مرد جانثاروں کو تہیہ تیغ کیا اور ان کی لاشوں پر گھوڑے دوڑا کر ان کی لاشوں کو کھلے صحرا میں بے گور و کفن چھوڑ دیا تاکہ جنگل و صحرا کے حیوانات ان لاشوں کی باقیات کو بھی کھا جائیں اور یوں کربلا میں کام آنے والے ان شہداء کا نام و نشان مٹ جائے۔

لیکن کربلا کے لٹے پٹے کارواں نے یزید اور یزیدیت کی بظاہر عظیم فتح کو ایسی عبرتناک شکست میں تبدیل کر دیا کہ کربلا کا نام آتے ہی یزید اور یزیدیت کے ایوان کانپنے لگتے ہیں۔

سینکڑوں سال گزرنے کے بعد بھی ہر باشعور انسان یزید کے اس بہیمانہ اقدام سے نفرت و بیزاری کا اعلان کرتا ہے۔ امام حسینؑ کا چہلم حقیقت میں کربلا کی ابدی فتح کا اعلان ہے، خاندان اہل بیتؑ نے دس محرم سے بیس صفر تک ایک ایسا معرکہ لڑا جسکی مثال نہیں ملتی۔ اسیران کربلا نے شمشمیر پر خون کی فتح کو ببانگ دہل ثابت کردیا۔

اس معرکہ حق و باطل میں اگرچہ نواسہ رسولؑ اور آپ کے بہتر جانثاروں کا بے گناہ خون بہا اور مخدورات عصمت و طہارت کو شام غریباں اور کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں سخت ترین مراحل سے گزرنا پڑا، لیکن امام حسینؑ جس سلوگن اور نعرے کو مدینہ سے لیکر چلے تھے، وہ آج بھی ہر آزاد منش حریت پسند کے قلب و ذہن میں گونج رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں