لاکھوں زائرین کربلا معلی کی طرف رواں دواں

عشق کی سلطنت کی جانب سفر عشق جاری ہے زبان پر یاحسین کی صدا اور آنکھوں میں اشکوں کا سیلاب لیے رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر لاکھوں زائرین کربلا معلی کی طرف رواں دواں ہیں۔

مقامی افراد زائرین کی خدمت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

عاشور کے دن کربلا میں تنہا رہ جانے والے نواسہ رسول ص کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہر سال کروڑوں لوگ لبیک یا حسین ع،،لبیک یا حسین ع کی صدائیں لگاتے کربلا کا پیدل سفر کرتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر شخص کا امام حسین علیہ السلام سے ایک انفرادی تعلق ہے جسے کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا اور یہی وہ جذبہ ہے جو دنیا کے کونے کونے سے ہر مذہب کے لوگوں کو کربلا لے آتا ہے

نجف سے کربلا جانے والی سڑک کو ‘این نجف’ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اربعین کے لیے آنے والے زیادہ تر افراد اسی سڑک پر مشی کرکے کربلا پہنچتے ہیں۔

این نجف پر کربلا جانے والے زائرین کے لیے ہر قسم کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اس سڑک کو دنیا کا سب سے بڑا دستر خوان کہنا غلط نہ ہوگا۔

ایک عام شاہراہ جو کسی بھی ملک میں دو شہروں کو ملانے کے لیے تعمیر کی جاتی ہے لیکن عزاداران امام مظلوم علیہ لسلام کے لیے مقدس سمجھے جانے والے دو عراقی شہروں نجف اور کربلا کو ملانے والی اس سڑک پر منظر کچھ خاص ہوتا ہے۔

دورانِ سفر کسی بھی مسافر کو پیش آنے والی ہرضرورت کا مفت انتظام ہوتا ہے۔ کوئی زبردستی آپ کو جوس پلانا چاہتا ہے تو کوئی کھجوریں یا دیگر اشیائے خوردونوش پکڑا دیتا۔

کوئی جوتے پالش کروانے کی درخواست کرتا ہے تو کوئی چاہتا ہے نواسہ رسول کی زیارت کے لیے پیدل جانے والے زائرین کی ٹانگیں دبانے کی سعادت حاصل کر سکے۔بچے ہاتھوں میں ٹشو پکڑے زائرین کا پسینہ خشک کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔

آخر یہ کون لوگ ہیں اور اس سڑک پر یہ ساری چیزیں مفت کیوں بانٹ رہے ہیں اور اپنے گھروں کا بہترین سامان سڑک پر کیوں لے آئے ہیں؟

۔یہ سب زائر امام مظلوم ع کے لیے ہے۔ اس موقع پر غریب اور امیر کی تفریق سے بالاتر ہو کر مقامی عراقی زائرین کی خدمت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں