آرمینیا اور آذربائیجان کی فورسز میں جھڑپیں، متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ

آرمینیا اور آذربائیجان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں، گولہ باری کے نتیجے میں سرحدوں کے دونوں اطراف بسنے والے متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع ملک آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین متنازع علاقے ناگورنو کرابخ ریجن پر کشیدگی بڑھ گئی، دونوں اطراف کی فورسز نے ایک دوسرے پر بھاری مشینری سے گولہ بھاری شروع کردی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کی جانب سے ایک دوسرے پر گولہ باری کے الزامات کی بارش کی جارہی ہے جبکہ آرمینیا نے الزام عائد کیا ہے کہ آذربائیجان کی فورسز نے متنازع علاقے میں آباد عام لوگوں کی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خبر ایجنسی کا کہنا تھا کہ آرمینیا کے وزیر اعظم نے جھڑپوں میں تیزی کے بعد ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے افواج کو متحرک کردیا ہے جبکہ آذربائیجان کی پارلیمنٹ نے بھی متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔

خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے پڑوس میں واقع ملک ایران نے دونوں ممالک کے مابین تنازع کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ناگورنو کرابخ ریجن کے معاملے پر 12 جولائی 2020 سے کشیدگی جاری ہے تاہم اس میں کشیدگی گزشتہ شب آئی جب دونوں جانب سے بھاری گولہ باری کی گئی۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ شہری آبادی پر گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں