مریض کی زندگی خطرے میں ڈالنے پرڈاکٹرکو 12 سال قید کی سزا سنا دی گئی

امریکا میں ہوورڈ بورڈ پر کھڑے ہو کر مریض کا دانت نکالنے والے ڈاکٹر کو لاپرواہی برتنے پر جیل ہوگئی۔

ریاست الاسکا کی عدالت نے اسٹنٹ کے شوق میں مریض کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے اور میڈیکل فراڈ پر ڈینٹسٹ کو 12 سال قید کا حکم سنا دیا۔

سیتھ لوک ہارٹ نے مریض کے علاج میں انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے نہ صرف اسٹنٹ کا جشن منایا بلکہ دوستوں کو ویڈیو بھیج کر مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ کوئی بھی اس کے جرم کو نہیں پکڑ سکا۔

ڈینٹسٹ کے خلاف فراڈ اسکیم کی شکایات پر تحقیقات کی گئی تو واقعہ کی ویڈیو سامنے آئی جس پر عدالت نے مریضہ کو طلب کر کے سارا معاملا سامنے رکھا۔

جج نے پوچھا کہ کیا آپ نے ڈاکٹر کو ایسا اسٹنٹ کرنے کی اجازت دی تھی یا ڈاکٹر نے آپ سے کو اس متعلق کچھ بتایا تھا؟ مریض ویڈیو دیکھ کر دنگ رہ گئی اور کہا کہ وہ بے ہوش تھیں اور انہیں نہیں معلوم کہ اس وقت کیا ہو رہا تھا۔

مریضہ نے کہا کہ وہ اس طرح کے حساس معاملے میں کسی صورت ڈاکٹر کو خطرناک اسٹنٹ کی اجازت نہیں دے سکتی تھی، اگر مجھے بتایا بھی جاتا تو کبھی اجازت نہ دیتی اور کہتی یہ سراسر پاگل پن ہے، غیر پیشہ وارانہ رویہ ہے۔

عدالت نے مریضہ کے بیانات اور دیگر شواہد و ثبوتوں کی بنیاد پر ڈاکٹر کو لاپرواہی برتنے اور فراڈ کے الزام میں 12 سال قید کی سزا سنا دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں