امارات اور بحرین نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے معاہدے پر دستخط کردیے

خلیجی ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے معاہدے پر دستخط کردیے۔

سفارتی تعلقات کے معاہدے کی تقریب امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس میں ہوئی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو، اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید النہیان اور بحرینی وزیر خارجہ خالد بن احمد الخلیفہ شریک تھے۔

معاہدے پر دستخط سے قبل میڈیا نمائندوں سے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کےلیے مزید کئی ممالک تیار ہیں اور بہت جلد 5 ممالک اسرائیل سے تعلقات قائم کرلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک تنازعات کی صورتحال سے تنگ آچکے ہیں جب کہ اس معاہدے کے بعد اماراتی اور بحرینی شہری مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے جاسکیں گے۔

بعد ازاں امریکی صدر کی موجودگی میں اسرائیل کی جانب سے وزیراعظم نیتن یاہو جب کہ بحرین اور اماراتی وزرائے خارجہ نے معاہدے پر دستخط کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے پر بطور گواہ دستخط کیے۔

معاہدے کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے والی عرب ریاستوں کی تعداد 4 ہوگئی ہے، اس سے قبل 1979 میں مصر اور اردن 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 13 اگست اور بحرین نے 11 ستمبر کو اسرائیل سے امن معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ کو انتخابات جتوانے اور نیتن یاہو کو فلسطینیوں کے مزید زمینوں پر قبضے کرنے اور مکانات گرانے کا اختیار دینے والے عرب حکمرانوں نے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد نہ صرف ایک دوسرے کو مبارکباد بھی بلکہ بحرین کے وزیر خارجہ نے تو اپنے کندھے تھمپتھپا کر خود کو فاتح ثابت کرنے کی بھی کوشش کی۔

نام نہاد معاہدے کے سہولت کار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں مزید پانچ سے چھ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا انکشاف کرکے فلسطینیوں اور ان کے دوستوں کے دل پر تیر چلانے کی کوشش کی۔

شرمناک معاہدے پر دستخط کرنے والے اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زید نے امریکا کو عربوں کا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کے بغیر یہ معاہدہ طے پانا ممکن نہیں تھا۔

فلسطینیوں کے خون کا سودا کرنے والے بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدہ اسرائیل فلسطین امن کی راہ ہموار کرے گا۔

عرب اسرائیل تعلقات پر فلسطینیوں کے حامی اقوام بہت دکھی ہیں اور اس معاہدے کو شرمناک قرار دے رہے ہیں، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کو انتخابات جتوانے اورعرب سرزمین کے درمیان موجود ناسور اسرائیل کو مزید بدمست کرنے میں کون کون سے ممالک لائن پر لگ جاتے ہیں۔

اسرائیل ہر اعتبار سے ایک ناجائز ریاست ہے

ریاستیں کوششوں سے بنتی ہیں لیکن ناجائز ریاستیں سازشوں سے بنائی جاتی ہیں،اسرائیل ہر اعتبار سے ایک ناجائز ریاست ہے،عرب ریاستیں امریکا کے پھیلائے اسرائیل نامی جال میں ایک کے بعد ایک پھنستی چلی جارہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے بعداب امریکا کا اگلا شکار بحرین ہے, بحرین نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے نام نہادامن معاہدے پر دستخط کردئیے ہیں،یہ امن معاہدہ کوئی اچانک طے نہیں پایا ہے بلکہ ان دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ تین سال سے مختلف شعبوں میں روابط جاری تھے۔

اس عرصہ کے دوران اسلام اور یہودیت کے پیروکاروں کے درمیان مکالموں کا تبادلہ ہوا اور اسرائیلی اور بحرینی حکام نے ایک دوسرے کے ہاں سکیورٹی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔

اس سلسلے میں بحرین سے تعلق رکھنے والے ایک بین المذاہب گروپ نے بارہ دسمبر سے چودہ دسمبر دوہزار سترہ تک اسرائیل کا تین روزہ دورہ کیا تھا،پچیس ارکان پرمشتمل اس وفد میں مسلم،عیسائی ، ہندو اور بدھ مت شامل تھے، سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے نیویارک سے تعلق رکھنے والے یہودی گروپ نے بحرین کا پچیس فروری دوہزاراٹھارہ کو دورہ کیا تھا، یہ دور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کی دعوت پر کیا گیا، گذشتہ سال بحرین کے دارالحکومت منامہ میں وائٹ ہاؤس کے زیراہتمام امن سے خوش حالی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔

اس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنے پچاس ارب ڈالر مالیت کے اقتصادی منصوبہ کا اعلان کیا تھا اور اسرائیل،فلسطینی تنازع کے حل کے لیے اپنا منصوبہ پیش کیا تھا،جولائی دوہزار انیس میں بحرینی وزیرخارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے اپنے اسرائیلی ہم منصب اسرائیل کاتز سے پہلی مرتبہ امریکی محکمہ خارجہ میں مذہبی آزادی کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں کھلے عام ملاقات کی تھی،دسمبر دوہزار انیس میں مقبوضہ بیت المقدس ( یروشلیم ) کے سابق چیف ربی شلوموعمرو نے بحرین کا دورہ کیا تھا اور ایک بین المذاہب فورم میں شرکت کی تھی۔

اس فورم میں کویت ، لبنان ، مصر اور اردن سے تعلق رکھنے والے مذہبی زعماء نے بھی شرکت کی تھی، فلسطین سے غداری کرکے عرب یہ بھول چکے ہیں کہ اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ریاست ہے،جوپوری دنیا کے امن کے لئے سنگین خطرہ ہے، او اس ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے والے، فلسطینیوں کی آزادی کے سوال اور ان کی بے پناہ قربانیوں سے غداری کے مرتکب ہورہے ہیں،

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں