قبائلیوں کے حقوق اور حفاظت کے لیے سرگرم کارکن زہریلے تیروں کے حملہ سے ہلاک

جنوبی امریکی ملک برازیل میں قبائلیوں کے حقوق اور حفاظت کے لیے سرگرم کارکن اور محقق کو قبائلیوں نے ہی زہریلے تیروں سے حملہ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا، محقق قبائلیوں کی حفاظت کے لیے جاری کام کے دوران وہاں معمول کی گشت پر تھے۔

56 سالہ ماحولیاتی کارکن اور محقق ریلی فرانسسکاٹو قبائلیوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے حکومتی ادارے فیونائی سے بھی وابستہ تھے اور قدیم قبائل کی ثقافت اور طرز زندگی کی حفاظت کے لیے کام کر رہے تھے۔

یہ قدیم قبائل ایمازون کے جنگلات میں آباد ہیں جن کی تعداد 100 کے قریب ہے، ان میں سے اکثر جدید دنیا سے ناواقف ہیں جبکہ بعض ایسے بھی ہیں جو جنگجو ہیں۔

فرانسسکاٹو کو موت کے گھاٹ اتارنے والا قبیلہ بولیویا کی سرحد کے قریب گھنے جنگلاتی علاقے میں مقیم تھا۔

حکومتی ترجمان کے مطابق فرانسسکاٹو دریائے کاٹاریو کے قریب نیم فوجی دستوں کے ایک قافلے کے ساتھ معمول کی گشت کے دوران اس نامعلوم قبیلے کے قریب سے گزرے تو قبائلی افراد نے ان پر زہر آلود تیر چلانے شروع کر دیے۔

فوجی گاڑی پر سوار افراد نے چھلانگیں مار کر گاڑی کے پیچھے پناہ لی اور تب تک چھپے رہے جب تک تیر پھینکے جانے بند نہیں ہو گئے۔

ایک فوجی اہلکار کے مطابق فرانسسکاٹو نے بھی جان بچانے کے لیے چھلانگ لگائی لیکن تب تک انہیں تیر لگ چکا تھا۔ انہوں نے اپنے سینے میں لگے تیر کو کھینچ کر نکالا اور اس کے بعد بھاگتے ہوئے تقریباً 50 میٹر تک کا فاصلہ طے کیا تھا کہ وہ گر گئے۔

فوجی اہلکار کے مطابق گرتے ہی ان کی موت واقع ہوگئی۔

فرانسسکاٹو قبائلی علاقوں اور ان کی مختلف زبانوں، ثقافتوں اور رسومات کے معتبر ماہر مانے جاتے تھے۔ وہ جنگجو قبائل کو پرامن زندگی بسر کرنے کی ترغیبات بھی دیتے تھے۔

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ ساری زندگی اس بات کا پرچار کرتے رہے کہ ہر انداز کے انسانوں کو اپنی مرضی کے مطابق جینے کا حق حاصل ہے، ان کی ساری زندگی جدید دنیا سے کٹے ہوئے قبائلیوں کے حقوق کی جدوجہد کرتے گزری۔ ان کی زندگی اس شعبے سے منسلک دوسرے افراد کے لیے قابل تقلید ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں