اردن کی فوجی عمارت میں زور دار دھماکے، شہر لرز اٹھا

اردن کے شہر زرقا میں واقع فوج کا اسلحہ ڈپو زور دار دھماکے سے گونج اٹھا، اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں‌ آئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق اردن کے دارالحکومت اومان سے دور واقع شہر زرقا میں جمعے کی صبح فوجی عمارت میں یکے بعد دیگرے دھماکے ہوئے۔

اردن کے وزیر اطلاعات و نشریات امجد عدیلیہ نے تصدیق کی کہ یہ دھماکے زرقا میں واقع فوجی عمارت میں ہوئے، ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آتشزدگی ہوئی جس نے آتش گیر مادے کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ عمارت میں فوجی ساز و سامان اور مارٹر گولوں سمیت دیگر دھماکا خیز مواد رکھا ہوا تھا، جب آگ نے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لیا تو دور دراز علاقوں تک دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

سرکاری میڈیا رپورٹ کے مطابق فوجی جنرل کمانڈ نے بتایا کہ دھماکوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ عمارت کا بڑا حصہ متاثر ضرور ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات اور دھماکوں کی وجوہات جاننے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تفتیشی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو پیش کرے گی۔

دھماکوں کی شدت سے اطراف میں واقع مکانات کی کھڑکیاں متاثر ہوئیں جبکہ قریب میں کھڑی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ کر بکھرے ہیں۔

 

حکومتی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’فوجی ساز و سامان کے مرکز میں جو مارٹرز گولے اور بارودی مواد رکھا ہوا تھا وہ کسی استعمال کے قابل نہیں تھا، فوجی سامان ذخیرہ کرنے والی عمارت آبادی والے علاقے سے کافی فاصلے پر واقع ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق زرقا شہر دارالحکومت عمان سے تقریباً 25 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے اور جہاں فوجی ساز و سامان ذخیرہ کرنے کے متعدد مراکز قائم ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زرقا شہر میں ماضی میں بھی کئی بار دھماکے ہوچکے ہیں اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ناقابلِ استعمال بارود اور دھماکا خیز مواد کئی عرصے تک رہنے کی وجہ سے یہاں آتشزدگی کے واقعات پیش آتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں