سعودی فرماں روا کا ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ، فلسطین کی آزادی زیرِ بحث

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کیا کہ سعودی عرب فلسطین کی آزادی اور پرامن حل کے لیے اپنے موقف پر قائم ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ شب سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں سعودی فرماں روا نے امریکا پر فلسطین کا مسئلہ عرب امن اقدام کے تحت حل کرنے پر زور دیا۔

سعودی فرماں روا نے امریکی صدر پر واضح کیا کہ فلسطین کا مستقل اور منصفانہ حل چاہتے ہیں اور اس کے لیے عرب امن معاہدے کو بنیاد تصور کرتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو توقع ہے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والی ڈیل میں سعودی عرب بھی شامل ہو جائے گا۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب بھی امارات اسرائیل ڈیل میں شامل ہونے کی توقع کرتا ہوں۔

ٹرمپ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایف تھرٹی فائیو طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے ، جسے اسرائیل نے لڑائی میں استعمال کیا ہے۔

مزید جانئے: اسرائیل کی پہلی تجارتی پرواز متحدہ عرب امارات پہنچ گئی

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے سر فہرست معاونِ خصوصی متحدہ عرب امارات پہنچے تھے۔

اسرائیلی وفد ابوظہبی میں ہونے والی بات چیت شعبہ ہوابازی، سیاحت، تجارت، صحت، توانائی اور سلامتی سمیت دیگر امور پر تعاون کو فروغ دینے کے لیے تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے عرب امن معاہدہ 2002ء میں تجویز کیا تھا جس میں اسرائیل کو دوریاستی حل کو تسلیم کرنے اور 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں قبضہ کی گئی زمین سے دست بردار ہونے کی صورت میں سفارتی تعلقات کی بحالی کی پیش کش کی گئی تھی۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں