سابق وزرائے اعظم اور طاقتور جماعتوں کی حمایت حاصل، مصطفیٰ ادیب لبنان کے نئے وزیر اعظم منتخب

لبنان کے رہنماؤں نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے دباؤ پر سفارت کار مصطفیٰ ادیب کو ملک کا نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا۔

قانون اور سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کرنے والے لبنان کے نومنتخب وزیراعظم مصطفیٰ ادیب اس سے قبل جرمنی میں لبنان کے سفیر رہ چکے ہیں اور صدر مائیکل عون کی میزبانی میں ہونے والی مشاورت میں لبنان کی تمام مرکزی جماعتوں نے ان کی حمایت کی۔

سینئر عہدیداروں کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ ادیب پر اتفاق رائے کے لیے فرانسیسی صدر کی ثالثی بہت اہم تھی کیونکہ سیاست دانوں کے درمیان اختلاف رائے تھا۔

فرانسیسی صدر ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں لبنان کا دوسرا کیا اور سیاست دانوں کو کرپشن کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اور معاشی اصلاحات پر زور دیا۔

مصطفیٰ ادیب کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ملک کے لیے بہت محدود موقع ہے اور جو مشن میں نے قبول کیا ہے اس پر تمام سیاسی فورسز کا اتفاق ہے’۔

انہوں نے زور دیا کہ ریکارڈ وقت میں حکومت تشکیل دی جائے اور فوری طور پر اصلاحات اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ کیا جائے۔

لبنان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جولائی کے اوائل میں شروع ہوئے تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ملک کے عوام میں سخت غصہ، وزیراعظم نے کابینہ سمیت مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا

مصطفیٰ ادیب نے باصلاحیت ٹیم کے انتخاب کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ ‘مذاکرات اور وعدوں کا وقت نہیں ہے بلکہ سب کے تعاون سے کام کرنے کا وقت ہے’۔

وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انہوں نے دھماکے سے تباہ ہونے والے بیروت کے علاقے کا دورہ کیا جہاں 190 سے زائد افراد ہلاک اور 6 ہزار زخمی ہوگئے تھے۔

لبنان کے ایک سینئر سیاست دان نے مصطفیٰ ادیب کے انتخاب کے لیے فرانسیسی صدر کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ‘یہ ان کا ہر کسی کو فون کرنے کا دباؤ تھا، ان کی لبنان آمد اور ہر کسی کی جانب سے انہیں مایوس نہ کرنے کی خواہش کا دباؤ تھا’۔

مصطفیٰ ادیب کا نام ایک روز قبل ہی اس وقت سامنے آیا تھا جب لبنان کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ سعد حریری سمیت سابق وزرائے اعظم نے انہیں نامزد کیا۔

سعد حریری کے علاوہ حزب اللہ بھی مصطفیٰ ادیب کی نامزدگی میں شامل ہے، اس لیے انہیں حکمرانی کے دوران سابق وزرائے اعظم اور طاقت ور جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔

یاد رہے کہ بیروت میں 4 اگست کو تباہ کن دھماکے کے بعد ملک میں حکمران طبقے کے خلاف شدید احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعظم حسن دیب اور ان کی کابینہ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

وزیر برائے پبلک ورک مشیل نجر نے کہا تھا کہ ‘میں امید کرتا ہوں کہ نگراں حکومت کی مدت طویل نہیں ہوگی کیونکہ ملک اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا، امید ہے کہ جلد ہی ایک نئی حکومت تشکیل دی جائے گی’۔

مزید جانئیے: لبنان میں ایمرجنسی نافذ، فوج کے لیے وسیع اختیارات کی منظوری …

انہوں نے کہا کہ ‘ایک موثر حکومت ہی ہمیں بحران سے نکال سکتی ہے’۔

اس سے قبل لبنان کے شہر بیروت میں ہزاروں مشتعل افراد نے وزارت خارجہ اور وزارت اقتصادیات کے دفاتر پر دھاوا بول دیا تھا۔

مظاہرین نے وسطی بیروت میں پارلیمنٹ کی عمارت تک جانے کی کوشش کی اور اس دوران مظاہرین اور پولیس کے مابین کشیدگی بھی ہوئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں