اسرائیل خود کو تسلیم کرنے والے ممالک کو کیا سرپرائز دینے والا ہے؟ اہم خبر نے سب کو چونکا دیا

متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا حیران کن بات نہیں ہے، سعودی عرب مستقبل قریب میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

تجزیہ کار کامران بخاری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا حیران کن بات نہیں ہے، سعودی عرب مستقبل قریب میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

 متحدہ عرب امارات ترکی کو کاؤنٹر کرنے کیلئے ایران کو استعمال کررہا ہے، اسرائیل کبھی بھی ایران عرب لڑائی میں عربوں کی مدد نہیں کرے گا۔ ۔ماہر مشرق وسطیٰ امور کامران بخاری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنا حیران کن بات نہیں ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان گفت و شنید ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ سعودی عرب مستقبل قریب میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

سعودی عرب میں سلفی اسلام ایک قوت ہے، اس لئے اسرائیل کو تسلیم کرنا ان کیلئے مشکل ہے، سعودی عرب کی بھی اسرائیل سے بات چیت منظرعام پر ہے۔ یو اے ای کی آبادی بہت کم ہے اس لئے ان کیلئے اسرائیل کو تسلیم کرنا آسان تھا۔

کامران بخاری کا کہنا تھا کہ ترکی اپنے مخالف یو اے ای پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔ متحدہ عرب امارات موجودہ صورتحال میں قطر کے جواب میں خود کو لیڈر کے طور پر سامنے لارہا ہے۔

یو اے ای اسرائیل کے ساتھ ایران سے بھی تعلقات بڑھارہا ہے، متحدہ عرب امارات ترکی کو کاؤنٹر کرنے کیلئے ایران کو استعمال کررہا ہے۔

کامران بخاری نے کہا کہ اسرائیل اپنے مفادات کیلئے عرب ممالک سے تعلقات بنارہا ہے، اسرائیل کبھی بھی ایران عرب جنگ میں عربوں کی مدد نہیں کرے گا۔

ایران اور ترکی ایک صفحہ پر نہیں ہیں بلکہ تاریخی حریف ہیں۔ ایران شام اور عراق میں ترکی کا راستہ روک رہا ہے۔ مستقبل میں ایران اور ترکی خطے اثر بڑھانے کیلئے حریف ہوں گے۔

آئی سی یو اسپیشلسٹ ڈاکٹر شازلی منظور نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کی شدید قسم کی لہر آئی تھی، جو کنٹرول میں آگئی ہے۔

طبی سہولتوں کی کمی کے باوجود موثر کردار ادا کرنے پر تمام ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو سلام پیش کرتا ہوں۔

پاکستان میں کورونا وبا کے کافی حد تک بے اثر ہونے میں کئی وجوہات کارفرما تھیں، پاکستان میں 60 فیصد آبادی نوجوان ہے اس لئے بھی کورونا زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں