حرمین شریفین انتظامیہ کا غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے حوالے سے اہم اعلان

حجازِ مقدسہ کے انتظامات پر نظر رکھنے والی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ غلافِ کعبہ کی تبدیلی کا عمل 9 ذی الحجۃ بروز جمعرات کو انجام دیا جائے گا۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق حرمین شریفین کی انتظامیہ نے ہرسال کی طرح امسال بھی خانہ کعبہ کے لیے نیا غلاف تیار کرلیا جو 9 ذی الحج بروز جمعرات کو تبدیل کیا جائے گا۔

رواں سال غلاف کعبہ (کسوہ) کی تبدیلی کا عمل مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریذیڈنسی کے سربراہ کی زیرنگرانی انجام دیا جائے گا جبکہ اُس سے قبل خانہ کعبہ کو آب زم زم اور عرق گلاب سے غسل دیا جائے گا۔

کسوہ (غلافِ کعبہ) کی دیکھ بحال کے حوالے سے تشکیل کردہ سرکاری کمیٹی نے رواں سال تیار ہونے والے خانہ کعبہ کے غلاف کا تفصیلی جائزہ لیا اور اُس پر نقش قرانی آیات، سنہری پٹی کو دیکھ کر اسے تیاری کے اعتبار سے مکمل قرار دیا۔

حرمین شریفین کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کسوہ کو 9 ذی الحج کی صبح مخصوص گاڑی میں رکھ کر شاہ عبد العزیز آڈیٹوریم سے حرم لایا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق غلاف کعبہ کی تبدیلی میں 160 ماہر کارکنان حصہ لیں گے، کرونا کے پیش نظر احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل بھی کیا جائے گا۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے نگرانِ امور شیخ عبدالرحمان السیدیس کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب کی دانش مند قیادت نے بیت اللہ کے امور پر خصوصی توجہ دی، مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے خانہ کعبہ کا نیا غلاف پورے اہتمام اور عزت و مرتبت کے ساتھ بیت اللہ کے سینئر متولی کے حوالے کیا‘۔

عبدالرحمان السددیس کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت اسلام ، مسلمانوں اور مقامات مقدسہ کی خدمت کے جذبے سے ہمہ تن سرشار رہتی ہے، رواں سال حج سیزن کے دوران حجاج کرام کو ہر ممکن سہولت اور آرام پہنچانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اور کارکنان مصروف عمل ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غلاف کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام خام ریشم استعمال کیا گیا ہے جس کے اندرونی حصے کو سیاہ رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ 120 کلو گرام سنہری دھاگہ اور 100 کلو گرام چاندی کا دھاگہ استعمال کیا جاتا ہے۔

غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے قائم کردہ شاہ عبدالعزیز کمپلیکس میں 200 ماہرین اور منتظمین کام کرتے ہیں۔ جن کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور وہ اپنے اپنے شعبے کے ماہر اور اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں