عیدالاضحیٰ کے دنوں میں مسجد الحرام سے متعلق بڑا فیصلہ، سعودی حکومت نے عوام کو آگاہ کردیا

سعودی حکومت نے عیدالاضحیٰ کے دنوں میں مسجد الحرام کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صرف ان افراد کو داخلے کی اجازت ہو گی، جن کے پاس داخلے کا اجازت نامہ ہو گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال حج کی تیاریوں میں عازمین کا تحفظ اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ طواف کعبہ اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے لیے مخصوص راستوں کا تعین کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے رواں سال حج سے متعلق نئے قواعدوضوابط جاری کردیئے ہیں جو مسجدالحرام، منیٰ، میدان عرفات، مزدلفہ اور قیام وطعام سےمتعلق ہیں۔

عازمین حج نماز کے دوران ایک دوسرے سے 2میٹر فاصلے کی پابندی کریں گے۔ رمی کےلیے حجاج کو پیک شدہ کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔

جمرات کی رمی کے حوالے سے طے کیا گیا ہے کہ 50 افراد پر مشتمل ایک گروپ کو ہر منزل پر رمی کے لیے جانے کی اجازت دی جائے گی۔

رمی کرتے وقت ڈیڑھ سے دو میٹر تک کا فاصلہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی خیمے میں 10 سے زیادہ حاجیوں کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ہر خیمہ 50 مربع میٹر کا ہوگا۔

طواف کےلیے مطاف جانےوالوں کی قافلہ بندی ہوگی۔ طواف کے دوران کم از کم ڈیڑھ میٹرکا فاصلہ رکھنا ہوگا۔ حج کے نئے قواعدوضوابط کےمطابق خانہ کعبہ یا حجراسود کوچھونا منع ہوگا۔

چھونے اور چومنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں رکھی جائیں گی۔ اس پر عمل درآمد کے لیے نگراں تعینات ہوں گے۔

پانی پینے یا زمزم پانی کے لیے قابل تلف(ڈسپوزیبل) بوتلیں اور ڈبےاستعمال کیے جائیں گے۔18 جولائی 2020، 28 ذیقعد سے 12 ذی الحج تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت کے بغیر جانا منع ہوگا۔

کھانے پینے کے برتن دوبارہ استعمال کرنےکی اجازت نہیں ہوگی اور بسوں میں عازمین کی تعداد متعین ہوگی۔

پورے سفر کے دوران ہر حاجی کی نشست متعین ہوگی۔ کسی بھی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں