شام ميں پارليمانی انتخابات، بشارالاسد ایک بار پھر بازی لے گیا

شام میں کامیاب الیکشن کے انعقاد کے بعد نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔ برسراقتدار جماعت قومی اتحاد نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے میدان مار لیا ہے۔ شام میں دو ہزار گیارہ کے بحران کے بعد سے اب تک تیسری بار پارلیمانی انتخابات کرائے گئے۔

شام ميں پارليمانی انتخابات میں حکمران جماعت سرخرو ہوگئے، صدر بشار الاسد کی پارٹی نے ڈھائی سو نشستوں کی پارليمان ميں ایک سو ستتر پر کاميابی حاصل کی۔ يہ انتخابات دمشق حکومت کے زير کنٹرول علاقوں ميں کرائے گئے تھے۔

الیکشن کمیشن کے سربراہ نے اعلان کیا کہ چھے ملین دو لاکھ چوبیس ہزار چھے سو سڑسٹھ افراد نے انتخابات میں حصہ لیا اور یوں مجموعی طور پر تینتیس اعشاریہ سترہ فیصد لوگوں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرکوئی امیدوار مطمئن نہ ہوتو تین دن کے اندر اپنے تحفظات درج کرا سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دیرالزور، حلب اور اس کے مضافاتی علاقوں کے پانچ انتخابی حلقوں میں فرضی ووٹنگ کی بنا پر الیکشن کمیشن دوبارہ انتخابات کرائے گا۔شام میں دوہزار گیارہ کے بحران کے بعد سے اب تک تیسری بار پارلیمانی انتخابات کرائے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں