گائے چوری کا الزام، بھارتی انتہا پسندوں نے تین بنگالی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے علم بردار بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ انتہا پسندوں کی بدسلوکی کم نہ ہوسکی اور ریاست آسام میں انتہا پسند مشتعل ہجوم نے تین بنگالی شہریوں کو گائے چوری کرنے کے الزام میں تشدد کر کے مار ڈالا۔

بنگالی شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ آسام کے جنوبی ضلع کریم گنج میں پیش آیا جہاں مشتعل ہجوم نے سرحد پار سے آنے والے بنگالی شہریوں کو گائے چوری کا الزام لگا کر تشدد کرکے ہلاک کر دیا۔

گزشتہ ہفتے نیپال سے بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں وارا ناسی میں بھی انتہاپسندوں نے نیپال مخالف پوسٹرز لگائے اور ایک نیپالی شہری کو زبردستی گنجا کر دیا تھا۔

11 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ نے شہریت کا متنازع قانون منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔

اس قانون کے ذریعے بھارت میں موجود بڑی تعداد میں آباد بنگلا دیشی مہاجرین کی بے دخلی کا بھی خدشہ ہے۔

بھارت میں شہریت کے اس متنازع قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ احتجاج میں شریک ہیں۔

پنجاب، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش سمیت کئی بھارتی ریاستیں شہریت کے متنازع قانون کے نفاذ سے انکار کرچکی ہیں جب کہ بھارتی ریاست کیرالہ اس قانون کو سپریم کورٹ لے گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں