برطانیہ میں کورونا کی دوسری لہر گرمیوں کے فوری بعد تیزی سے شدت اختیار کر سکتی ہے

برطانوی سائنسدان جیرمی فیررار نے کہا ہے کہ برطانیہ اس وقت بھی کورونا کے خطرات سے دوچار ہے، اسے کورونا وائرس کی دوسری لہر کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

جیرمی فیرار نے کہا کہ پبلک مقامات کو کھولنے پر میرے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں، حکومت کو بہتر حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

ممبر آف گورنمنٹ سائینٹفک ایڈوائزری گروپ جیرمی نے کورونا کی دوسری لہر کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر گرمیوں کے فوری بعد تیزی سے شدت اختیار کر سکتی ہے۔

دوسری جانب برطانوی حکومت نے لیسٹر شائر شہر میں دوبارہ لاک ڈاؤن پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

برطانوی حکام کے مطابق فیصلہ کورونا وائرس کے کیسزمیں اضافے کے باعث کیا گیا۔ لیسٹر شائر میں 650 سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہونے پر یہ فیصلہ کیا گیا۔

وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے لاک ڈاوَن پرغور کی تصدیق کردی، شہریوں نے اس فیصلے پر ناخوشی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ستمبر میں کورونا وائرس انفیکشن کی دوسری لہر آئی تو کروڑوں لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رنیری گوریرا نے بتایا کہ عالمی وبا توقعات کے عین مطابق پھیل چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر اکتوبر میں جب درجہ حرارت کم ہوگا تو کورونا کی شدت بڑھ جائے گی۔

رنیری گوریرا نے سو سالہ پرانے ہسپانوی فلو کا کورونا کے ساتھ موازانہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپانوی فلو گرمی میں نیچے چلا گیا تھا اور ستمبر اکتوبر میں شدت سے اس کا دوبارہ آغاز ہوا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران پانچ کروڑ انسان زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں