امریکی پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام ایف بی آئی ایجنٹ کو گرفتار کرلیا

امریکا میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت اور زبردست احتجاج کے باوجود پولیس کا رویہ تبدل نہ ہوسکا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں پولیس نے سیاہ فام شخص کو مشتبہ سمجھ کر روکا اور اُس کے ہاتھ پیچھے باندھ کر بات سنے بغیر ہی تفتیش شروع کردی۔

ایک پولیس اہلکار نے مذکورہ شخص کا منہ گھمایا جبکہ دوسرے نے اُس کی جیب سے پرس نکال کر چیک کرنا شروع کیا۔

امریکی پولیس اہلکاروں کو اُس وقت زوردار دھچکا لگا جب انہوں نے پرس میں رکھا کارڈ دیکھا کیونکہ انہوں نے جس مشتبہ شخص کو حراست میں لیا وہ دراصل امریکا کے حساس ادارے ایف بی آئی کا اہلکار تھا۔

پولیس اہلکاروں نے ایف بی آئی ایجنٹ کا کارڈ دیکھنے کے بعد اُس سے معذرت کی اور اُسے چھوڑ دیا۔ واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔

سوشل میڈیا صارفین نے امریکی پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ اسی طرح کے مظالم اور رویے کی وجہ سے ہی امریکا سمیت دنیا بھر میں احتجاج جاری ہیں، سیاہ فام لوگوں کو بھی جیتنے کا اُتنا ہی حق ہے جتنا سفید فام کو ہے۔

دوسری جانب سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کےدوران کیلی فورنیا پولیس کےاہلکاروں کا مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا، پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا بلکہ انہیں آگے بڑھ کر گلے لگایا اور داد رسی کرتے ہوئے آنسو صاف کیے۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ وہ پر امن احتجاج کرنے والوں کا ساتھ دیں گے جبکہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

دریں اثنا نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ اور ویلنگٹن میں امریکا میں مظاہرین کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی گئیں، مظاہرین نے بلیک لائف میٹرز کے پوسٹرز اٹھائے رکھے تھے، اسی طرح جرمنی کے دارالحکومت برلن میں بھی نسلی امتیاز کیخلاف احتجاج کیا گیا، پیرس میں مظاہرین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی اور جارج فلائیڈ کیلئے انصاف کا مطالبہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں