جاپان کا اہم فیصلہ، ملک میں نافذ ہنگامی صورتحال کے خاتمے کا اعلان

جاپان نے عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں نافذ کردہ ہنگامی صورتحال کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہنگامی صورتحال کے خاتمے کا اعلان وزیراعظم شنزو ابی نے کیا ہے۔ انہوں نے یہ اقدام کورونا وائرس میں کمی آنے کے بعد اٹھایا ہے۔

ہنگامی صورتحال کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی شہریوں کو کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق جاپانی وزیراعظم نے یہ اعلان حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے قائم کردہ خصوصی پینل کی جانب سے ملنے والی اجازت کے بعد کیا ہے۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو ابی نے اعلان کے ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ ہنگامی صورتحال کے خاتمے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ مہلک وبا کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کووڈ 19 کی ویکسین تیار نہیں ہوتی اور اس کے علاج کی دوا دریافت نہیں کرلی جاتی اس وقت تک تمام احتیاطی تدابیر پرعمل درآمد کرنا ہوگا اور بداحتیاطی کسی بھی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوگی۔

کورونا وائرس کی وجہ سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں 16 ہزار 600 افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ 850 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

لاک ڈاؤن سے قبل جاپان کی معیشت دنیا کی تیسری بڑی معیشت تھی لیکن عائد کردہ بندشوں کے سبب اس وقت وہ کساد بازاری (recession) کا شکار ہوچکی ہے۔

ملکی معیشت کی گراوٹ نے جاپانی وزیراعظم اوران کی کابینہ کی عوامی مقبولیت انتہائی کم کردی ہے۔ گزشتہ دنوں کیے جانے والے سروے کے مطابق اس وقت انہیں صرف 30 فیصد افراد کی حمایت حاصل ہے جو برسر اقتدار آنے کے بعد سے سب سے کم ہے۔ جاپانی وزیراعظم شنزو ابی دسمبر 2012 میں برسر اقتدار آئے تھے۔

جاپان میں کورونا وائرس کی وجہ سے سات اپریل 2020 کو ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں بشمول ٹوکیو میں کاروبار زندگی بند ہو گیا تھا۔

حکومت نے ہنگامی صورتحال کے دوران شہریوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے گھروں میں قیام کریں جب کہ غیر ضروری کاروبار کے حوالے سے ہدایات دی گئی تھیں کہ یا تو انہیں بند کردیا جائے اور یا پھر انتہائی محدود رکھا جائے لیکن اس اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کسی قسم کی پابندی کے نفاذ کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

جاپان کے وزیر معیشت کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے تحت کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور صحت کے نظام پہ پڑنے والے ممکنہ دباؤ سے بھی ملک باہر نکلا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے آہستہ آہستہ معاشی و سماجی سرگرمیوں کی اجازت دے رہے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم اس لحاظ سے قطعی غافل نہیں ہیں اور صورتحال پہ بھرپور توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں