زلمے خلیل زاد کا طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم

امریکی نمائندہ خصوصی برائے امن عمل زلمے خلیل زاد نے طالبان اور افغان حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے اعلانات کا خیرمقدم کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں زلمے خلیل زاد نے عید کی مبارکباد دی اور عیدالفطر کے دوران افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ کورونا وائرس نے دنیا کے لیے رمضان می مشکل پیدا کی جبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث افٖغانیوں کے لیے خصوصی مشکلات پیدا ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کے لیے مشکل چیلنجز موجود ہیں اور میرا ماننا ہے کہ اگر دونوں طرف کے رہنما درست فیصلے کریں اور اپنے لوگوں کے مفاد کو ترجیح دیں تووہ ان پر قابو پالیں گے۔

امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ یہ پیشرفت امن عمل میں تیزی لانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ دیگر مثبت اقدام میں امریکا طالبان معاہدے میں دونوں فریقین کی جانب سے اتفاق کردہ باقی قیدیوں کی رہائی، تشدد میں کمی اور انٹرا افغان مذاکرات کے لیے نئی تاریخ پر اتفاق شامل ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم موقع ہے جسے گنوانا نہیں چاہیے، امریکا اس حوالے سے مدد میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

اس سے قبل 2018 میں افغانستان میں حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد طالبان نے 17 برس میں پہلی مرتبہ عیدالفطر کے پیش نظر تین دن جنگ بندی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مزید جانیے: طالبان نے افغان حکومت سے 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کردیا، اشرف غنی کا خیر مقدم

عسکری گروہ کے ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ جنگ بندی کا اعلان غیر ملکی فوج کے لیے نہیں ہے،کسی بھی حملے کی صورت میں اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل امریکی نمائندہ خصوصی برائے امن عمل زلمے خلیل زاد نے تمام فریقین سے تشدد میں کمی لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کا خیر مقدم

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مذکورہ اعلان کا خیر مقدم کیا اور تمام فریقین کو موقع سے فائدہ اٹھا کر افغانوں کی قیادت میں افغان امن عمل مکمل کرنے پر زور دیا۔

سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفین دوجارک کے مطابق انتونیو گوتریس نے کہا کہ صرف امن کے ذریعے ہی افغانستان کی مشکلات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اس اہم کوشش میں افغانستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ تعاون کے عزم پر قائم ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔

قیدیوں کے تبادلے کا عمل 10 مارچ سے قبل مکمل ہونا تھا اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا تاہم متعدد مسائل کی وجہ سے یہ عمل سست روی سے آگے بڑھا۔

تاہم افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے، جن میں سے کچھ حملوں بشمول 12 مئی کو میٹرنٹی ہسپتال میں کیے گئے حملے کو داعش سے منسوب کیا گیا۔

جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے خلاف جارحانہ کارروائی کے دوبارہ آغاز کا حکم دیا تھا، افغان حکومت کے اعلان کے ردعمل میں طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان فورسز کے حملوں کے جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

طالبان نے کہا تھا کہ اب سے مزید کشیدگی کی ذمہ داری کابل انتظامیہ کے کاندھوں پر ہوگی۔

18 مئی کو قبل طالبان نے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ دہرایا تھا، دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ افغان مسئلے کا حل دوحہ معاہدے پر عمل میں ہے، قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل اور بین الافغان مذاکرات شروع ہونے چاہیئیں۔

تاہم اسی شب طالبان نے قندوز میں حملہ کیا، اس حوالے سے افغان وزارت دفاع نے کہا کہ حملے کو ناکام بنادیا گیا اور طالبان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں